امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کرنے والی ڈیلیوری ورکر شارون سیمونز نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کی ٹپس سے متعلق پالیسیوں نے ان کی زندگی بدل دی۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال انہیں مجموعی طور پر 11 ہزار ڈالر کی ٹپس ملی ہیں۔
ریاست آرکنساس سے تعلق رکھنے والی 10 پوتوں پوتیوں کی دادی شارون سیمونز کے مطابق اس خطیر رقم نے انہیں اپنے شوہر کے کینسر کے علاج کے اخراجات پورے کرنے میں مدد دی۔
اس کے علاوہ وہ گرتی ہوئی گھریلو آمدنی کا بوجھ اٹھانے اور خاندان
سے ملنے کے قابل بھی ہوئیں۔
شارون سیمونز نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر ٹرمپ کو میکڈونلڈز کے برگر فراہم کیے اور اس تجربے کو خوشگوار قرار دیا۔
Hemos hablado brevemente con la mujer que le ha llevado el McDonald’s a Trump. Sharon Simmons nos dice que la eliminación de Trump de los impuestos sobre las propinas le ha cambiado la vida: el año pasado recibió 11.000 dólares en propinas y dice que ese ahorro le ha ayudado a… pic.twitter.com/U9iED2rMJ9
— David Alandete (@alandete) April 13, 2026
انہوں نے صدر کی شخصیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت مہربان انسان ہیں اور ان سے براہ راست مل کر بہت اچھا لگا۔
یہ ملاقات ایک غیر معمولی منظر تھا جب صدر ٹرمپ خود ہیمبرگر کے تھیلے وصول کرنے باہر آئے۔
اُن کے اس اقدام کا مقصد ٹپس پر ٹیکس ختم کرنے کی اپنی پالیسی کی تشہیر کرنا تھا تاکہ سروس سیکٹر کے ملازمین کو براہ راست مالی فائدہ پہنچایا جا سکے۔
ڈیلیوری کے دوران شارون نے صدر سے کہا کہ وہ ان کا آرڈر لے کر آئی ہیں، جس پر ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا کہ کیا یہ منظر مصنوعی تو نہیں لگ رہا۔
اس کے بعد صدر نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں ایران اور دیگر اہم معاملات پر گفتگو کی۔
صدر ٹرمپ شارون سیمونز کی مثال کو اپنی معاشی پالیسیوں کے دفاع کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اُن کا موقف ہے کہ ٹپس پر ٹیکسز کے خاتمے سے محنت کش طبقے کی زندگیوں میں نمایاں بہتری آئے گی اور ان کی قوت خرید میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔