اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ایران جنگ: آبنائے ہرمز امریکا کے خلاف یورپی بغاوت کا نقطہ آغاز

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران جنگ آبنائے ہرمز اور یورپ امریکا اختلاف تجزیہ
برطانوی اخبارات: ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا، ایران جنگ میں اتحادیوں کی حمایت نہ ملنے اور آبنائے ہرمز کے لیے عدم تعاون پر تنقید (فوٹو: الجزیرہ)

1956 میں جب نہرِ سویز کے بحران نے برطانوی اور فرانسیسی سامراج کا سورج غروب ہونے اور امریکی قیادت کے طلوع ہونے کا اعلان کیا تھا، تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ 70 سال بعد تاریخ خود کو ایک نئے اور اُلٹے رُخ پر دہرائے گی۔

مزید پڑھیں

آج ایران کے خلاف جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے تناؤ نے ایک بار پھر بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں (امریکہ اور یورپ) کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔

وقت سے ساتھ بڑھتی ہوئی یہ بغاوت ممکنہ طور پر امریکی قیادت کے زوال اور یورپی ’تزویراتی خودمختاری‘ کے آغاز کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اکتوبر 1956 کے اواخر میں ایک امریکی جاسوس طیارے ’U-2‘ نے قاہرہ کے ایک فوجی اڈے کے اوپر پرواز کرتے ہوئے کچھ تصاویر لیں۔

پہلی نظر میں سب نارمل تھا، لیکن محض 10 منٹ بعد جب طیارے نے دوبارہ چکر لگایا تو منظر بدل چکا تھا۔

زمین میں شگاف پڑ چکے تھے، عمارتیں ملبہ بن چکی تھیں اور طیارے جل رہے تھے۔ یہ نہرِ سویز پر برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کے ’تہرے حملے‘ کا آغاز تھا۔

ایران جنگ آبنائے ہرمز اور یورپ امریکا اختلاف تجزیہ
امریکی وزیر خارجہ جان فوسٹر ڈلاس (بائیں) 1956 میں برطانیہ کے وزیر اعظم انتھونی ایڈن (دائیں) سے مصافحہ کر رہے ہیں، جبکہ فرانسیسی وزیر خارجہ کرسچیان پینو یہ منظر دیکھ رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

جب یہ تصاویر امریکی صدر آئزن ہاور کے پاس پہنچیں تو وہ دنگ رہ گئے۔ انہوں نے کہا: ’بم! میرے خدایا! انتھونی (برطانوی وزیراعظم) کیا سمجھ رہا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے؟‘

 آئزن ہاور کا یہ سوال اس غصے کی عکاسی تھا جو برطانوی وزیراعظم انتھونی ایڈن کے اس فیصلے پر پیدا ہوا تھا، جس میں واشنگٹن سے مشورہ تک نہیں کیا گیا تھا۔

اس واقعے نے بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں پر موجود اتحادیوں کے درمیان ایک ایسی دراڑ ڈال دی جس نے عالمی سیاست کا رخ تبدیل کرکے رکھ دیا۔

اس بحران کے ایک ہفتے بعد جب جنگ بندی ہوئی تو ایڈن نے واشنگٹن کا دورہ کرکے تعلقات بحالی کی کوشش کی، لیکن امریکی وزیر خارجہ جان فوسٹر ڈلس نے صدر کو قائل کیا کہ وہ برطانوی وزیراعظم سے نہ ملیں۔ 

واشنگٹن اس وقت عرب دنیا کی رائے عامہ کھونا نہیں چاہتا تھا اور برطانیہ کے ساتھ کھڑا ہونا ’تہرے حملے‘ میں شراکت داری کا تاثر دیتا۔ 

سویز بحران نے ثابت کیا کہ عالمی طاقت کا توازن یورپ سے نکل کر امریکہ کے پاس آ چکا ہے۔ برطانیہ اور فرانس کا ستارہ گردش میں آ گیا اور دنیا واشنگٹن اور ماسکو کی سرد جنگ کے دور میں داخل ہو گئی۔

ایران جنگ آبنائے ہرمز اور یورپ امریکا اختلاف تجزیہ
اگر جنگ مکمل سمجھوتے پر ختم بھی ہو جائے، تب بھی بحرِ اوقیانوس کے آرپار تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہیں گے (فوٹو: الجزیرہ)

آج کا منظرنامہ: تاریخِ سویز کا عکسِ معکوس

آج تقریباً 70 سال بعد، مشرقِ وسطیٰ میں دیکھے جانے والے مناظر سویز جیسے ہی نظر آ رہے ہیں ، لیکن ایک بڑے فرق کے ساتھ۔

اس بار امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، جس پر  آبنائے ہرمز کے تناؤ نے واشنگٹن اور یورپی دارالحکومتوں کے درمیان وہی پرانا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ  کیا مغربی اتحاد اب بھی متحد ہے؟

نقطہ نظر کا فرق یہ ہے کہ 1956 کا بحران یورپی قیادت کے خاتمے اور امریکی قیادت کے عروج کا نشان تھا، جبکہ موجودہ ’ہرمز بحران‘یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اب امریکی قیادت یورپی ممالک کے لیے قابلِ قبول نہیں رہی۔ 

یورپ اب اپنی جغرافیائی حدود سے دُور ایسی جنگوں میں شامل ہونے کو تیار نہیں جو اس کے معاشی مفادات کو براہِ راست چوٹ پہنچاتی ہوں۔

یورپ میں تزویراتی خودمختاری کی تڑپ

جنگ کے ابتدائی دنوں ہی سے یورپی یونین، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے واضح کر دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم نہیں چاہتے۔

اس کی وجہ صرف عسکری خوف ہی نہیں بلکہ توانائی کی سیکیورٹی اور مہاجرین کی نئی لہر کا ڈر بھی ہے۔ 

یورپ جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا مطلب ’انرجی شاک‘ ہے، جو ان کی صنعتوں کو تباہ کر دے گا، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب وہ پہلے ہی یوکرین جنگ اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

اگرچہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ یورپ خفیہ طور پر انٹیلی جنس اور لاجسٹک مدد کے ذریعے امریکہ کی معاونت کر رہا ہے، لیکن سیاسی طور پر وہ اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے۔

یہ ’سیاسی منافقت‘یا دہرا معیار 2003 کی عراق جنگ میں بھی دیکھا گیا تھا، مگر آج یہ زیادہ نمایاں ہے کیونکہ یورپ اب پہلے جیسا متحد نہیں رہا۔

ایران جنگ آبنائے ہرمز اور یورپ امریکا اختلاف تجزیہ
آئزن ہاور انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ نہر سویز کے بحران کا واحد حل سفارت کاری ہے (فوٹو: الجزیرہ)

ٹرمپ کی پالیسیاں اور گرین لینڈ کا معمہ

تجزیہ کاروں کے مطابق بحرِ اوقیانوس کے پار تناؤ کی ایک بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں بھی ہیں۔

یورپی مصنوعات پر ڈیوٹی، نیٹو سے نکلنے کی بار بار دھمکی اور ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنے کی تجویز نے یورپینز کو یہ احساس دلایا ہے کہ واشنگٹن اب انہیں ’اسٹریٹجک پارٹنر‘کے بجائے ایک معاشی حریف سمجھتا ہے۔

یورپ کو اب یہ خطرہ لاحق ہے کہ امریکہ انہیں کسی بھی ایسی جنگ میں گھسیٹ سکتا ہے جس کا فیصلہ واشنگٹن میں بند کمروں میں ہوا ہو اور اس کے معاشی نتائج صرف یورپ کو بھگتنے پڑیں۔

توانائی اور معیشت: ہواؤں کا رُخ یورپ کی جانب

امریکہ توانائی پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک بن چکا ہے، اس لیے وہ ایک طویل جنگ کا معاشی بوجھ اٹھا سکتا ہے۔

اس کے برعکس یورپ کا صنعتی ڈھانچہ درآمدی توانائی پر کھڑا ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا 20 سے 25 فیصد تیل اور گیس یورپی صنعتوں کی شہ رگ ہے۔

یورپ اپنی 40 فیصد تجارت کے لیے نہرِ سویز پر انحصار کرتا ہے، جبکہ امریکہ کا انحصار محض 3 فیصد ہے۔

اسی طرح توانائی کی قیمتوں میں اضافہ جرمنی اور اٹلی جیسے صنعتی مراکز کی مسابقت کو ختم کر رہا ہے، جس سے وہاں سیاسی عدم استحکام اور دائیں بازو کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔

دفاع اور امریکہ پر انحصار

یورپ اس وقت ایک تزویراتی مخمصے میں ہے کہ کیا وہ امریکی دفاعی چھتری کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟

نیٹو کے اندر یورپ کا ڈھانچہ امریکی قیادت کے تابع ہے۔ انٹیلی جنس، لاجسٹک اور کمانڈ سسٹم سب واشنگٹن سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ٹرمپ نیٹو سے نکلنے کی بات کرتے ہیں تو پورا یورپ لرز اٹھتا ہے۔

اس جنگ نے یورپ میں ’آزاد دفاعی صلاحیت‘ کی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ ’پیسکو‘ (PESCO) جیسی تجاویز اب محض نظریاتی نہیں رہیں بلکہ ایک ضرورت بن چکی ہیں۔ 

یورپ اب یہ سمجھنے لگا ہے کہ واشنگٹن پر مکمل انحصار کا مطلب اپنی خودمختاری کا سودا کرنا ہے۔

ایک نیا عالمی نظام؟

ماہرین کا خیال ہے کہ ہم ’پوسٹ اٹلانٹک‘یعنی ماقبلِ اٹلانٹک دور میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں مغربی اتحاد شاید مکمل طور پر ختم نہ ہو، لیکن اس کی وہ مرکزیت ختم ہو جائے گی جو 1945 سے قائم تھی۔

مبصرین کے مطابق اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو یورپ کا معاشی ڈھانچہ بیٹھ جائے گا، جس سے وہاں سیاسی انقلاب آ سکتے ہیں اور اگر جنگ ختم بھی ہو جائے، تب بھی واشنگٹن اور برسلز کے درمیان وہ اعتماد بحال نہیں ہو سکے گا جو پہلے تھا۔

آنے والے وقت میں یورپ شاید ایک آزاد قطب کے طور پر ابھرے، جس کے اپنے مفادات چین اور روس کے ساتھ وابستہ ہوں گے اور اس کا مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اپنا آزادانہ نظریہ ہوگا۔

جس طرح 1956 میں سویز کے بحران نے برطانوی اور فرانسیسی سامراج کے خاتمے پر مہر لگائی تھی، اب 2026 کی ایران جنگ امریکی یک قطبی قیادت (Unipolar Leadership) کے خاتمے کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔ 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب مغربی اتحاد ایک قیادت کے بجائے باہمی مفادات کے ایک پیچیدہ معاہدے میں تبدیل ہو رہا ہے۔