آج منگل کے روز ڈالر کی قدر تقریباً مستحکم رہی، کیونکہ سرمایہ کار آبنائے ہرمز کی طرف جانے یا وہاں سے نکلنے والی تمام بحری نقل و حرکت پر امریکی بحریہ کے کنٹرول سے پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹ کے خطرات اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مذاکرات کے جاری رہنے کے امکانات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ماپتا ہے، 0.04 فیصد اضافے کے ساتھ 98.38 تک پہنچ گیا، جبکہ یورو 0.03 فیصد بڑھ کر 1.1761 ڈالر ہو گیا۔
جاپانی ین بھی ڈالر کے مقابلے میں 0.08 فیصد مضبوط ہوا اور 159.3 ین فی ڈالر پر آ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3508 ڈالر تک پہنچ گیا۔
متسو بوشی یو ایف جے بینک کے تجزیہ کار تیریوماسا کاواکامی نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ مذاکرات کے جاری رہنے کی توقعات مالی منڈیوں کے جذبات میں مزید بگاڑ کو روکنے میں مدد دے رہی ہیں۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فوج نے پیر کے روز ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر کنٹرول شروع کر دیا ہے جبکہ ایران نے خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ہفتے کے آغاز میں پاکستان میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے۔
رائٹرز کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں ہونے والی کشیدہ ملاقات کے باوجود جاری ہیں۔
تیل کی منڈیوں میں امریکی خام تیل کے معاہدے ایشیائی ٹریڈنگ کے آغاز میں 2 ڈالر سے زیادہ گر کر 96.99 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔
کرنسی مارکیٹ میں آسٹریلوی ڈالر 0.04 فیصد کم ہو کر 0.7091 ڈالر پر آ گیا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.03 فیصد بڑھ کر 0.5868 ڈالر ہو گیا۔
کرپٹو کرنسیوں میں بٹ کوائن 1.70 فیصد اضافے کے ساتھ 74,438.67 ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ ایتھیریم 5.32 فیصد بڑھ کر 2,373.32 ڈالر پر آ گیا۔