سویٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف جنیوا اور یونیورسٹی آف لوزان کے سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ 100 سالہ عمر کے افراد کے جسم میں ایسے حیاتیاتی نشانات موجود ہوتے ہیں جو انہیں عام بڑھاپے کے اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں
طویل عمری اور پروٹین کا کردار
محققین نے ’سوئس 100‘ پراجیکٹ کے تحت 3 مختلف عمر کے افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔
اس تحقیق کے دوران نتائج سے پتا چلا کہ 100 سالہ عمر کے افراد میں 37 ایسے پروٹینز پائے گئے جو ان کے جسم کو جوان رکھنے اور آکسیڈیٹو تناؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
تحقیق کا دائرہ کار اور طریقہ کار
اس تحقیق میں 100 سال کی عمر کے 39 افراد (جن میں 85 فیصد خواتین شامل تھیں)، 59 ایسے افراد جو 80 کی دہائی میں تھے اور 40 نوجوان شامل تھے۔
سائنسدانوں نے خون کے سیرم میں 724 پروٹینز کی جانچ کی، جن کا تعلق قلبی صحت، سوزش اور میٹابولک عمل سے جوڑا گیا تھا۔
میٹابولزم اور سوزش میں کمی
تحقیق کے مطابق 100 سالہ افراد میں سوزش پیدا کرنے والے پروٹینز کی سطح بہت کم ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ ان کا جسم شوگر اور چربی کے میٹابولزم کو بہتر انداز میں منظم رکھتا ہے، جس سے انہیں ذیابیطس اور مٹاپے جیسی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے، جو عمر بڑھنے کے ساتھ عام ہوتی ہیں۔
انسولین اور متوازن گلوکوز
سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا کہ 100 سالہ افراد کا جسم انسولین کی ضرورت سے زیادہ مقدار پیدا کیے بغیر گلوکوز کا متوازن لیول برقرار رکھتا ہے۔
یہ ایک غیر معمولی حیاتیاتی میکانزم ہے جو انہیں میٹابولک سنڈروم اور دیگر پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے، جس سے ان کی صحت طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔
طرزِ زندگی اور جینیاتی عوامل
اگرچہ طویل عمری میں جینیاتی عوامل کا کچھ کردار ہوتا ہے، مگر محققین کا کہنا ہے کہ انسانی صحت میں طرزِ زندگی 25 فیصد اثر رکھتا ہے۔
متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور سماجی میل جول جسمانی ڈھانچے کو جوان رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مستقبل کی طبی راہیں
یہ تحقیق بڑھاپے کو ایک ناگزیر تنزلی ماننے کے نظریے کو چیلنج کرتی ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر ان پروٹینز کے افعال کو سمجھ لیا جائے تو مستقبل میں ایسی نئی علاج معالجے کی تکنیکیں تیار کی جا سکتی ہیں جو عمر رسیدہ افراد میں کمزوری اور بیماریوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔