اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

الباحہ آم سیزن: 1500 ٹن پیداوار سے مقامی معیشت کو فروغ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
الباحہ آم پیداوار 1500 ٹن اور سعودی زراعت ترقی
(فوٹو: واس)

مملکت کے الباحہ ریجن میں آم کی پیداوار کا نیا موسم شروع ہو گیا ہے، جس کے ساتھ ہی تہامہ کے علاقوں بالخصوص المخوہ اور قلوہ میں پھل پک کر تیار ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں زرعی سرگرمیوں کے فروغ اور مقامی معیشت کی مضبوطی کا واضح اشارہ ہے۔

المخوہ اور قلوہ گورنریٹس اپنی زرخیز زمین اور گرم موسم کی بدولت آم کی کاشت کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔

یہاں سے پیدا اعلیٰ اور مختلف اقسام کے آم مقامی مارکیٹ کی طلب پوری کرتے ہیں، جس سے کسانوں کو بہترین معاشی مواقع دستیاب ہیں۔

واضح رہے کہ الباحہ میں آم کی کاشت کا موسم ہر سال اپریل سے اگست تک جاری رہتا ہے۔

وادیوں اور پہاڑی ڈھلوانوں پر پھیلے ہزاروں درختوں سے ٹومی، جلن اور بلدی جیسی اقسام حاصل کی جاتی ہیں، جو مقامی پیداوار کی مسابقت کو بڑھانے کے ساتھ صارفین کو وسیع انتخاب فراہم کرتی ہیں۔

jazan mango 2
(فوٹو: واس)

وزارت ماحولیات، پانی و زراعت کے الباحہ ریجن کے ڈائریکٹر انجینئر فہد بن مفتاح الزہرانی کے مطابق ریجن میں 113 ایکڑ رقبے پر آم کاشت کیے گئے ہیں۔ 

اس مجموعی کاشت سے سالانہ تقریباً 1500 ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے، جو زرعی طریقوں میں بہتری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کا ثبوت ہے۔

آم کا یہ موسم کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوتا ہے، جس سے مارکیٹوں میں تجارتی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ 

اس دوران سیاحوں اور زائرین کی بڑی تعداد زرعی فارمز کا رخ کرتی ہے، جس سے زرعی سیاحت کو فروغ ملتا ہے اور تازہ پیداوار کی براہ راست فروخت ممکن ہوتی ہے۔

الباحہ آم پیداوار 1500 ٹن اور سعودی زراعت ترقی
(فوٹو: واس)

وزارت زراعت اس شعبے کو ایک منافع بخش اور امید افزا ذریعہ معاش کے طور پر ترقی دے رہی ہے۔ 

اس مقصد کے لیے ریف پروگرام کے تحت کسانوں کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ نامیاتی کاشتکاری کے ذریعے مصنوعات کے معیار اور مارکیٹ ویلیو کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

محکمہ زراعت کی جانب سے کسانوں کے لیے تربیتی اور رہنمائی کے خصوصی پروگرام بھی جاری ہیں۔ 

ان پروگراموں میں جدید آبپاشی، کھادوں کے استعمال اور کیڑوں کے انسداد کی جدید تکنیکس سکھائی جاتی ہیں، تاکہ پیداوار کو پائیدار بنایا جا سکے اور زرعی سپلائی چین کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔