اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

سوڈان: آسمان سے سبز پرندوں کی پراسرار گمشدگی کس چیز کی اطلاع ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ام قیردون پرندہ گمشدگی اور سوڈان ماحولیاتی اشارہ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اپریل کے وسط میں سوڈان کے آسمانوں سے ’ام قیردون‘ نامی سبز پرندوں کے جھنڈ کا غائب ہونا ایک مقامی روایت اور فطرت کی نشانی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ عمل خاموشی سے موسمِ سرما کے اختتام اور جھلسا دینے والے موسمِ گرما کے آغاز کا اعلان کرتا ہے، جسے مقامی لوگ ماحولیاتی تقویم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ایک ماحولیاتی پہیلی

ماحولیاتی ماہر پروفیسر طلعت دفع اللہ عبد الماجد کے مطابق ’ام قیردون‘ وسطی افریقہ سے وادی نیل تک پایا جانے والا مقامی پرندہ ہے۔

یہ پرندہ کسی براعظمی ہجرت کے بجائے خوراک اور موسم کی مناسبت سے اپنے قدرتی دائرے میں نقل مکانی کرتا ہے، جو ایک سائنسی حقیقت ہے۔

کھیتوں کا قدرتی محافظ

یہ پرندہ چھوٹے حجم کے باوجود زراعت کے لیے انتہائی مفید ہے۔

یہ شہد کی مکھیوں، بھڑوں اور ٹڈیوں جیسے حشرات کو کھاتا ہے، جس سے فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کا قدرتی خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ پرندہ کیمیائی زرعی ادویات پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماحولیاتی صحت کا اشارہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پرندے کی تعداد میں کمی ماحولیاتی دباؤ کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے اور اس کی موجودگی درختوں، افزائشِ نسل کے مقامات اور حشرات کی فراوانی کی تصدیق کرتی ہے۔

اسی طرح اس کا انخلا دراصل قدرتی وسائل کے توازن میں کسی خلل کا ایک خاموش انتباہ ہو سکتا ہے۔

ام قیردون پرندہ گمشدگی اور سوڈان ماحولیاتی اشارہ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

کہانیاں اور حقیقت

سوڈانی داستانوں میں مشہور ہے کہ ’ام قیردون‘ طویل سفر کے لیے ’رہو‘ (کرکی) نامی پرندے کی پشت پر سوار ہوتا ہے۔

اگرچہ سائنسی طور پر اس کی کوئی دلیل نہیں، لیکن یہ کہانی انسان کی قدرت کے پیچیدہ مظاہر کو سمجھنے اور انہیں داستانوں میں ڈھالنے کی گہری خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔

ثقافتی اہمیت اور احترام

دیہی علاقوں میں اسے ’الحاجہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی لوگ اس کی واپسی کو ایک مقدس سفر سے تشبیہ دیتے ہیں اور اس کا خیرمقدم گیتوں سے کرتے ہیں۔

اسی طرح عوامی ثقافت میں اس پرندے کو نقصان پہنچانا گناہ سمجھا جاتا ہے، جس سے انسان اور فطرت کے درمیان ایک گہرا جذباتی بندھن قائم ہے۔

’ام قیردون‘ محض ایک پرندہ نہیں بلکہ سوڈانی معاشرت کے لیے موسموں کی تبدیلی کا ایک اہم اشارہ ہے۔ 

آج سائنسی حقائق اور مقامی عقائد کے سنگم پر کھڑے ہو کر یہ سوال کرنا اہم ہے کہ کیا فطرت کے یہ خاموش اشارے ہماری ماحولیاتی تبدیلیوں کی طرف کسی بڑی تبدیلی کی نشاندہی کر رہے ہیں؟