ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک معاہدہ تقریباً طے پا گیا تھا تاہم وہ آخری مرحلے پر پہنچ کر ناکام ہو گیا۔
عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکرات کئے مگر جب معاہدہ طے پانے کے قریب تھا تو ’سخت رویے، اہداف میں تبدیلی اور محاصرے‘ نے پیش رفت روک دی۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے مستقبل کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں، لیکن امریکہ اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ان کے مطابق طویل اور سنجیدہ مذاکرات کے باوجود پیش رفت نہ ہو سکی۔
قالیباف نے واضح کیا کہ ایران پہلے ہی امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا اور یہ
In intensive talks at highest level in 47 years, Iran engaged with U.S in good faith to end war.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 12, 2026
But when just inches away from "Islamabad MoU", we encountered maximalism, shifting goalposts, and blockade.
Zero lessons earned
Good will begets good will.
Enmity begets enmity.
اعتماد قائم کرنے میں وقت درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے لیے تیار ہے اگر اسے مسلط کیا جائے لیکن اگر امریکہ سنجیدہ رویہ اختیار کرے تو ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی دھمکیوں کا اثر ختم ہو چکا ہے اور ایران دباؤ میں نہیں آئے گا۔ ان کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے گا۔
قالیباف نے، بغیر نام لیے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو واشنگٹن کی ’مایوسی‘ قرار دیا اور کہا کہ امریکہ کو ایران کے اعتماد کی بحالی پر توجہ دینی چاہئے۔
بطور ایرانی وفد کے سربراہ، قالیباف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ مذاکرات کیے، تاہم یہ مذاکرات بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔