پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن اور تہران دونوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل جاری رکھیں، باوجود اس کے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
اسحاق ڈار، جن کی حکومت نے ان مذاکرات کی میزبانی کی، نے سرکاری میڈیا کو دیے گئے ایک مختصر بیان میں کہا ’دونوں فریقوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جنگ بندی کی پابندی جاری رکھیں‘۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان آئندہ دنوں میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کو آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
مزید پڑھیں
پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ہم ایران اور امریکہ کے لیے گہرے تشکر کے اظہار سے کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی فوری جنگ بندی کی اپیل کا مثبت جواب دیا اور اسلام آباد میں امن مذاکرات کے انعقاد کی دعوت قبول کی۔
امریکہ کا وفد، جس کی قیادت امریکی نائب صدر ایچ جے ڈی وینس کر
رہے تھے، اور اسلامی جمہوریہ ایران کا وفد، جس کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کر رہے تھے، پاکستان پہنچا تاکہ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کرے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ مل کر میں نے دونوں فریقوں کے درمیان کئی ادوار پر مشتمل انتہائی سنجیدہ اور تعمیری مذاکرات کی میزبانی اور معاونت کی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جاری رہے اور آج صبح اختتام پذیر ہوئے۔
وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ میں پاکستان کی ان کوششوں کو سراہنے پر دونوں فریقوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو انہوں نے جنگ بندی کے حصول اور اس میں پاکستان کے ثالثی کردار کے اعتراف کے لیے کیں۔
وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں فریق اسی مثبت جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں گے تاکہ پورے خطے اور اس سے باہر دیرپا امن اور خوشحالی حاصل کی جا سکے۔
یہ انتہائی ضروری ہے کہ تمام فریق جنگ بندی کے اپنے عزم کی پابندی جاری رکھیں۔
پاکستان آئندہ بھی اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان روابط اور مذاکرات کو آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔