اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

’امریکی ناتجربہ کار مذاکراتی ٹیم ٹرمپ کو رسوائی سے بچانے میں مصروف‘

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
امریکی صدر کی ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم کے اہم ارکان کا ایک خاکہ یا تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایک برطانوی مصنف کے مطابق امریکا کی ناتجربہ کار مذاکراتی ٹیم اس وقت صدر ٹرمپ کو رسوائی سے بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

مزید پڑھیں

برطانوی جریدے آئی پیپر میں شائع تجزیے کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی محض ایک جغرافیائی سیاسی تصادم نہیں ہے۔

تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ فریقین کے درمیان کشیدہ صورت حال دراصل صدر ٹرمپ کی ساکھ کے لیے ایک فیصلہ کن امتحان ہے، جہاں جنگ بندی کا حصول اب سیاسی کامیابی کے بجائے بڑی ہزیمت سے بچنے کی کوشش بن چکا ہے۔

تجزیہ نگار پال وڈ کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج کسی معاہدے تک پہنچنا نہیں بلکہ ٹرمپ کو رسوائی سے بچانا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امریکی انتظامیہ کی مذاکراتی ٹیم اپنے ایرانی ہم منصبوں کے مقابلے میں انتہائی ناتجربہ کار ہے، جس سے مذاکرات میں توازن کا فقدان واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔

اس مذاکراتی ٹیم میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں، جن کا مقابلہ انتہائی ماہر اور تجربہ کار ایرانی مذاکرات کاروں سے ہے۔

امریکی صدر کی ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم کے اہم ارکان کا ایک خاکہ یا تصویر
پاکستانی نائب وزیراعظم اور آرمی چیف امریکی نائب صدر کا استقبال کررہے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

تجزیے میں وٹکوف کی جوہری پروگرام سے متعلق معلومات کو بھی سطحی اور محدود قرار دیا گیا ہے۔

تجزیہ نگار کے مطابق موجودہ کشیدگی شاید کسی گہری حکمت عملی کا نتیجہ نہیں بلکہ پچھلے مذاکراتی ادوار میں غلط فہمیوں کا شاخسانہ ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ جنگ کا آغاز ہی دراصل مذاکراتی عمل میں موجود خامیوں اور فریقین کے درمیان رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہوا۔

ٹرمپ کا اندازِ حکمرانی روایتی سفارت کاری کے بجائے طاقت کے مظاہرے پر مبنی ہے، جس کا ثبوت ایران کو دھمکیاں دینا اور ایک اہم پل کو تباہ کرنے والی فوجی کارروائی ہے۔ 

یہ طرزِ عمل سفارتی پیش رفت کے بجائے محض دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس صورتحال میں مفادات کا ٹکراؤ بھی ایک اہم پہلو ہے، خاص طور پر جیرڈ کشنر کے خلیجی ممالک کے ساتھ مالیاتی روابط، جو اس تنازع میں براہ راست دلچسپی رکھتے ہیں۔

یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ امریکی فیصلوں پر اصل اثر و رسوخ کس کا ہے؟

امریکی صدر کی ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم کے اہم ارکان کا ایک خاکہ یا تصویر
پاکستانی نائب وزیر خارجہ اور آرمی چیف ایرانی وفد کا استقبال کررہے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

دوسری جانب سابق میرین جے ڈی وینس کا کردار مختلف ہے، جو عراق میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور مستقل جنگوں کے مخالف رہے ہیں۔

اُن کے لیے اس معاہدے کی کامیابی 2028 کے صدارتی انتخابات کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جبکہ ناکامی ان کے سیاسی کیریئر کے لیے بڑا بوجھ ہوگی۔

اسی طرح فریقین کے مطالبات میں بھی خلیج بہت گہری دیکھی جا رہی ہے، جہاں واشنگٹن مکمل جوہری تخفیف کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ تہران اپنے خودمختار حق، پابندیوں کے خاتمے اور سیکیورٹی ضمانتوں پر بضد ہے۔ 

اس صورت حال کے پس منظر میں قلیل مدت میں کسی جامع معاہدے تک پہنچنا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

تجزیے کا نچوڑ یہ ہے کہ امریکی فوجی طاقت سیاسی برتری میں تبدیل نہیں ہو سکی، کیونکہ جنگیں صرف میدان میں نہیں جیتی جاتیں۔ 

امریکا کا مقصد اب واضح فتح نہیں بلکہ اخلاقی شکست سے بچنا ہے، جو نہ صرف خطے کے مستقبل بلکہ امریکی قیادت کی عالمی ساکھ کا بھی تعین کرے گی۔