اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع سرینا ہوٹل میں امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں براہ راست مذاکرات کا آغاز خوشگوار ماحول میں ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ان مذاکرات کا بنیادی مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک پائیدار امن معاہدے تک پہنچنا ہے۔
مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جن کے ساتھ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہیں۔
اسی طرح ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی موجود ہیں، جبکہ میزبان ملک پاکستان کی نمائندگی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کر رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق فریقین کے درمیان بات چیت کا ماحول دوستانہ اور خوشگوار ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات میں مثبت پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔
Islamabad April 11 ,2026.
— Prime Minister's Office (@PakPMO) April 11, 2026
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif held a meeting with the Iranian delegation at the Islamabad Talks today.
The Iranian side was led by the Honorable Speaker of the Iranian Consultative Assembly, Mr. Mohammad Bagher Ghalibaf, assisted by Foreign… pic.twitter.com/xUSCq9sGpS
ابتدائی سیشن کے بعد دونوں ممالک کے ماہرین کی تکنیکی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں جو پیچیدہ امور اور حل طلب معاملات پر تفصیلی غور کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کو تہران کے مطالبات اور ریڈلائنز سے آگاہ کیا ہے۔
ان مطالبات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور پورے خطے میں فوری جنگ بندی کا قیام شامل ہے۔
قبل ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے الگ ملاقات بھی کی، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شریک تھے۔
Islamabad April 11 ,2026
— Prime Minister's Office (@PakPMO) April 11, 2026
As the Islamabad Talks commenced today, the Prime Minister of Pakistan, Muhammad Shehbaz Sharif held a meeting with His Excellency JD Vance, Vice President of the United States of America.
The U.S. Vice President was assisted by Special Envoy Steve… pic.twitter.com/XcH5x1VlHl
وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوں گے۔
قبل ازیں ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بیان میں کہا تھا کہ تہران ایک حقیقی معاہدے کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے امریکی نیت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے جائز حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
مذاکرات کے تناظر میں ایرانی وفد نے پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی ہے۔
یہ اہم مذاکرات 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے 6 ہفتوں بعد ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے 8 اپریل کو دو ہفتوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا اور تازہ صورت حال کے پیش نظر امکان ہے کہ مذاکرات کا دورانیہ ایک روز مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کو جلد کھولنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ارادوں کو ٹیسٹ کرنے کے لیے تیار ہے۔