اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں تہران نے اپنے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی بحالی کو مرکزی مطالبہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق دونوں ممالک پاکستان کی ثالثی میں طویل مدتی جنگ بندی یا حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکا، قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں موجود ایرانی اثاثوں کا کچھ حصہ جاری کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔
دوسری جانب تہران نے اس اقدام کو خیر سگالی کا اظہار قرار دیا ہے، تاہم امریکی فیصلے کا انحصار آبنائے ہرمز میں محفوظ نقل و حمل کی ضمانت پر ہے۔
اگرچہ منجمد اثاثوں کی درست مالیت پر اتفاق رائے نہیں ہے، لیکن مختلف تخمینوں کے مطابق یہ رقم 100 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
ماضی میں ایران اپنی مقامی کرنسی ریال کو مستحکم رکھنے کے لیے یہ ذخائر عالمی بینکوں میں رکھتا تھا، لیکن پابندیوں نے اسے ان رقوم تک رسائی سے محروم کر دیا۔
یاد رہے کہ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے فروری میں اعتراف کیا تھا کہ واشنگٹن نے جان بوجھ کر ایران میں ڈالر کی قلت پیدا کی، جس سے معاشی بحران اور اندرونی احتجاج نے جنم لیا ہے۔
دریں اثنا دسمبر میں ایک بڑے ایرانی بینک کے دیوالیہ ہونے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی تھی، جس کے بعد مرکزی بینک کو نوٹ چھاپنا پڑے۔
واضح رہے کہ ایران پہلے ہی شدید معاشی بحران کا شکار ہے، جہاں فروری میں سالانہ افراطِ زر کی شرح 68.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہران کے لیے منجمد اثاثوں کی بحالی کسی بھی معاہدے کی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
تاریخی تناظر میں 2014 کے عبوری جوہری معاہدے سے ایران کو 4.2 ارب ڈالر کی تیل کی آمدنی واپس ملی تھی۔
بعد ازاں 2015 کے جامع جوہری معاہدے (JCPOA) کے بدلے ایران کو 100 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے بحال کیے گئے تھے، لیکن 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دستبردار ہونے پر یہ دوبارہ منجمد ہو گئے۔
یہ اثاثے بنیادی طور پر جنوبی کوریا، جاپان، چین، بھارت اور ترکی کے بینکوں میں موجود ہیں۔
امریکی مالیاتی کرائم نیٹ ورک کے مطابق ایران سے منسلک کچھ تیل کی ٹرانزیکشنز سنگاپور کے ذریعے بھی کی گئیں۔ اثاثے منجمد کرنے کا یہ سلسلہ 1979 کے سفارتی بحران سے شروع ہوا تھا، جس میں جمی کارٹر نے 12 ارب ڈالر منجمد کیے تھے۔
ایران امریکا موجودہ مذاکرات میں تہران نے 10 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کی نئی صورتحال، یورینیم کی افزودگی کی سطح پر بات چیت، تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ بندی اور جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی شامل ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی بھی اس سلسلے کا حصہ ہے۔
اُدھر امریکی صدر ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ مذاکرات میں کسی قسم کی چالاکی سے گریز کرے۔
ٹرمپ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس دباؤ ڈالنے کے لیے کوئی کارڈ نہیں ہے اور ان کی بقا کا واحد راستہ سنجیدہ مذاکرات ہی ہیں۔