اسلام آباد میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وفد کی ملاقات کے بعد، جو امریکی وفد کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ مذاکرات کی تیاری کے سلسلے میں ہوئی، ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ذرائع کے مطابق تہران اس اقدام کو ’نیک نیتی کا امتحان‘ اور کسی مستقل امن معاہدے کے لیے سنجیدگی کا ثبوت سمجھتا ہے، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ ان اثاثوں کی رہائی ’آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی ضمانت‘ سے براہِ راست مشروط ہے، جو کسی بھی مستقل امن معاہدے سے پہلے ایک بنیادی شرط کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ معاملہ ان ابتدائی شرائط میں شامل ہے جن پر ایران نے امریکی وفد کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے آغاز کے لیے زور دیا ہے، جن میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔
تاہم واشنگٹن اور تل ابیب نے پہلے کہا تھا کہ عارضی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی جبکہ ایران اس مؤقف پر قائم ہے کہ یہ اس میں شامل ہے۔
امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ پابندیوں میں بڑی نرمی پر تیار ہے لیکن صرف اس صورت میں جب ایران اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں پر ٹھوس رعایتیں دے۔
ان شرائط کے علاوہ ایران مطالبہ کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے اور وہاں ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کا حق دیا جائے۔
جبکہ امریکا اس کی مخالفت کرتے ہوئے اس اہم بحری گزرگاہ کو بغیر کسی رکاوٹ یا فیس کے کھلا رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے ایک ذمہ دار نے کہا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی سے متعلق رپورٹ غلط ہے۔
متوقع ہے کہ مذاکرات، جو پہلے بالواسطہ اور پھر براہِ راست ہوں گے، کل یا پیر تک جاری رہیں گے۔
اگر بات چیت کامیاب رہی تو 8 اپریل کو اعلان کردہ عارضی جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے، جو تقریباً چھ ہفتے جاری رہنے والی جنگ کے بعد ہوئی تھی۔