دار الحکومت اسلام آباد آج ہفتے کے روز پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں درجنوں غیر ملکی صحافی مختلف ممالک سے یہاں پہنچے ہیں تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کی کوریج کر سکیں۔
اسلام آباد کا سرینا ہوٹل امریکی اور ایرانی وفود قیام پذیر ہیں، ایک پرتعیش سیاحتی مقام سے تبدیل ہو کر اہم سفارتی مرکز بن گیا ہے، کیونکہ حکومت نے اسے عارضی طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
مزید پڑھیں
ہوٹل انتظامیہ نے تمام مہمانوں سے اپنے کمرے خالی کرنے کی درخواست کی اور ایک بیان میں کہا:
.ہم آپ کو مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ حکومت پاکستان نے ہمارے ہوٹل کو ایک اہم تقریب کے انعقاد کے لیے حاصل کر لیا ہے، جو ہفتے کی شام سے اتوار کی شام تک جاری رہے گی‘۔
یہ کمپنی ’آغا خان اکنامک ڈیولپمنٹ فنڈ‘ کی سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہے۔
اس ہوٹل کا افتتاح اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے 2002 میں کیا تھا۔
یہ ہوٹل شہر کے محفوظ علاقے میں واقع ہے اور حساس مذاکرات اور اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیوں کے لیے انتہائی موزوں سمجھا جاتا ہے۔
عام طور پر یہاں سفارتکار، بین الاقوامی مہمان اور سرکاری وفود قیام کرتے ہیں۔
یہ 6 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے، جس میں خوبصورت مناظر والے باغات مختلف سطحوں پر موجود ہیں۔
اسے 7.5 سے زیادہ شدت کے زلزلوں کو برداشت کرنے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس میں خصوصی سوئٹس اور ایگزیکٹو لاؤنجز شامل ہیں جو اہم اجلاسوں اور نجی بات چیت کے لیے بنائے گئے ہیں۔
توقع ہے کہ امریکی اور ایرانی وفود کے سربراہان اور ان کی ٹیمیں انہی سہولیات کا استعمال کریں گی۔
ہوٹل کی خاص بات ہاتھ سے تراشا ہوا سنگ مرمر، مخصوص لکڑی کا فرنیچر، ہاتھ سے بنی کپڑوں کی سجاوٹ اور چھتوں پر لگے ہزاروں ہاتھ سے پینٹ شدہ لکڑی کے پینل ہیں۔
اس کے علاوہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی، اعلیٰ معیار کی خدمات اور جدید سکیورٹی نظام سے بھی لیس ہے۔
آخر میں، اس میں 105 لگژری کمرے، انٹرایکٹو ٹی وی اور انٹرنیٹ سروس موجود ہے۔
مزید برآں 6 ریستوران، ایک بڑا ہال جو 1000 افراد تک کی گنجائش رکھتا ہے، بزنس اور کانفرنس سہولیات، ایک جدید جم اور آؤٹ ڈور سوئمنگ پول بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی حکام نے تقریباً 10 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں جن میں فوج، نیم فوجی دستے، پولیس اور انٹیلی جنس اہلکار شامل ہیں تاکہ مذاکرات کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
اسی دوران ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جہاں ہوٹل واقع ہے جس میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آج اس ہوٹل کے اندر سے کوئی ’سفید دھواں‘ (یعنی معاہدے کی علامت) نکلتا ہے، جو امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی امید دے سکے، جو ممکنہ طور پر براہ راست ملاقات کریں گے یا پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر میں ملاقات ہوگی تاکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔