ايران اور امریکہ آج ہفتہ کے روز باكستان میں امن مذاکرات کر رہے ہیں، جن پر باہمی عدم اعتماد کا سایہ چھایا ہوا ہے جبکہ دونوں سخت حریفوں کے درمیان بنیادی مطالبات کے حوالے سے واضح فاصلے بھی نظر آ رہے ہیں۔
ایرانی وفد، جس کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، سب سے پہلے إسلام آباد پہنچا، جہاں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
اس کے بعد امریکی وفد بھی پہنچا جس کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جو واشنگٹن کے سخت مؤقف رکھنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور ’امریکہ فرسٹ‘ اور ’امریکہ کو دوبارہ عظیم بناؤ‘ جیسے نعروں کے حامی ہیں۔
فانس کا طیارہ آج صبح نور خان بیس پر اترا، جس کے بعد وفد اسلام آباد روانہ ہوگیا۔
مزید پڑھیں
وفود کی تشکیل
امریکی وفد میں فانس کے علاوہ خصوصی ایلچی سٹيف ويٹكو، جاريد كوشنر، نیز خارجہ، دفاع اور قومی سلامتی کونسل کے اہلکار شامل ہیں جیسا کہ ذرائع نے اے بی سی نیوز نے بتایا۔
امریکی ذرائع کے مطابق وینس نے صدر ٹرمپ سے ایران کے ساتھ سفارتی عمل میں فعال کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔
ایرانی وفد
ایرانی وفد 70 سے زائد افراد پر مشتمل ہے، جس کی قیادت قالیباف کر رہے ہیں۔
اس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذو القدر، دفاعی کونسل کے سربراہ علی اكبر احمديان، مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہمتی سمیت پارلیمانی، سیاسی، عسکری، اقتصادی اور قانونی ماہرین شامل ہیں۔
وفد میں 26 تکنیکی ماہرین، 23 میڈیا نمائندگان اور سیکیورٹی و انتظامی ٹیمیں بھی شامل ہیں، جیسا کہ فارس نیوز نے رپورٹ کیا ہے۔
مذاکرات کے نکات
ٹرمپ پہلے بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل نہ ہوں اور ہرمز کھلا رہے۔
انہوں نے گزشتہ روز یہ دھمکی بھی دی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران نے براہِ راست مذاکرات کے لیے اپنی شرائط دہرائیں، جن میں بیرونِ ملک منجمد اثاثوں پر سے پابندی اٹھانا اور تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی شامل ہے۔
توقع ہے کہ ایرانی وفد آج دوپہر سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شريف سے ملاقات کرے گا۔
اگر امریکی فریق ایرانی شرائط قبول کر لیتا ہے تو مذاکرات کا آغاز سہ پہر میں سيرينا ہوٹل میں ہوگا۔