اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

قطر میں گیس تنصیبات پر حملوں سے عالمی خوراک کی فراہمی کو خطرہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
قطر میں گیس تنصیبات پر حملے، کھاد کی سپلائی اور عالمی غذائی بحران
(فوٹو: انٹرنیٹ)

دنیا بھر میں کسانوں کو اس وقت کھاد کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران امریکہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد کی سپلائی تقریباً رک چکی ہے، جس سے عالمی غذائی تحفظ سنگین خطرے میں پڑ گیا ہے۔

ڈیجیٹل شپنگ ڈیٹا کے مطابق مارچ 2026 میں خلیجی ریاستوں سے کھاد کی برآمدات میں 98 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔

قطر سے مارچ کے دوران کھاد کی ایک بھی ترسیل ریکارڈ نہیں کی گئی، 

جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں لاکھوں ٹن تھی۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی (UNCTAD) کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں 95 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ 

ریکارڈ کے مطابق فروری کے اواخر میں روزانہ 103 جہاز گزر رہے تھے، لیکن مارچ میں یہ تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔

strait of hormuz
(فوٹو: سبق)

خلیجی گیس اور کھاد کا گہرا تعلق

نائٹروجن کھاد، خاص طور پر یوریا اور امونیا کی پیداوار کا 70 سے 90 فیصد انحصار قدرتی گیس پر ہے، جبکہ قطر، جو دنیا کی کل قدرتی گیس کا تقریباً 10 فیصد برآمد کرتا ہے، کھاد کی عالمی تجارت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

قطر فرٹیلائزر کمپنی (QAFCO) دنیا کی سب سے بڑی پروڈیوسر ہے، جس کی پیداوار میں خلل کا مطلب دنیا کی 30 فیصد یوریا سپلائی کا متاثر ہونا ہے۔ 

4 مارچ کو ایرانی حملوں کے بعد قطر انرجی کی تنصیبات متاثر ہونے سے پیداواری عمل جزوی طور پر رک چکا ہے۔

iran attack on qatar
(فوٹو: انٹرنٹ)

قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور عالمی اثرات

یوریا کی قیمتیں مارچ 2026 میں 693 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئیں، جو 2022 کے بحران کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

حالات کے تناظر میں فچ ریٹنگز نے 2026 میں کھاد کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ بھارت، امریکہ، برازیل اور انڈونیشیا سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جی 7 ممالک کے پاس تیل کے برعکس کھاد کے اسٹریٹیجک ذخائر نہیں ہیں۔ 

خوراک کی فراہمی میں اس رکاوٹ کے اثرات 2022 میں یوکرین جنگ کے دوران پیدا ہونے والے زرعی بحران سے بھی زیادہ شدید اور دُور رس ہو سکتے ہیں۔

strategic oil reserve 1
(فوٹو: انٹرنیٹ)

کیا جنگ بندی سے بحران تھم جائے گا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جنگ بندی کا مطلب کھاد کی سپلائی کی فوری بحالی ہرگز نہیں ہے۔

پیداواری پلانٹس کی بحالی اور شپنگ انشورنس کے معاملات کو معمول پر لانے میں کم از کم 4 سے 8 ہفتے درکار ہوں گے۔ 

اگر جنگ بندی طویل مدتی امن میں تبدیل نہ ہوئی تو عالمی زرعی موسم کو پہنچنے والا نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے، جس کا خمیازہ غریب ممالک کو بھگتنا پڑے گا۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں کھاد کی کمی کا بحران تیزی سے سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ 

اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن پیداواری لائنوں کی بندش اور ٹرانسپورٹ کے مسائل نے زرعی شعبے کو ایک ایسے دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں فوری حل کے بغیر دنیا بھر میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔