پاکستان اس وقت عالمی برادری کی نظروں کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں اسلام آباد ایک انتہائی مشکل مگر اہم سفارتی مشن پر گامزن ہے۔
مزید پڑھیں
اس مشن کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کے لیے ثالثی کرنا ہے تاکہ عالمی معیشت میں استحکام لایا جا سکے اور خطے کو بڑے تنازع سے بچایا جا سکے۔
ان مذاکرات کے لیے حفاظتی انتظامات کے پیش نظر حکام نے اسلام آباد کے اہم حصوں کو سیل اور ریڈ زون میں ہوٹل سیرینا کو مکمل سیکیورٹی حصار میں لے لیا ہے، جہاں فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی حکام پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔
سیکیورٹی کے یہ غیر معمولی اقدامات پاکستان کی جانب سے اس حساس معاملے پر برتی جانے والی احتیاط کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا چیلنج صرف جگہ کو محفوظ بنانا نہیں بلکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا بھی ہے جو اس نازک سفارتی پیش رفت کو نقصان پہنچا سکے۔
پاکستان کا بڑھتا ہوا سفارتی کردار
پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ کو روکنے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کردار پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اسلام آباد اب صرف پیغام پہنچانے والا نہیں بلکہ ایک فعال فریق بن چکا ہے۔
تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ امریکی وائٹ ہاؤس کا جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف پر اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن کو احساس ہے کہ پاکستان ہی ایرانی وفد پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ دہرا کردار پاکستان کو ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے، مگر اس کے لیے اسے ایک کٹھن توازن بھی برقرار رکھنا ہوگا۔
مذاکراتی میز پر پیچیدہ مسائل
مذاکرات میں خلیجی ممالک کے تحفظات بھی سرفہرست ہیں، جنہیں حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اس حوالے سے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور کویتی وزیر خارجہ نے پاکستانی قیادت سے ٹیلی فون پر رابطے کیے ہیں، جس سے اسلام آباد کی ثالثی کی علاقائی حمایت واضح ہوتی ہے۔
پاکستان اس بات پر بھی زور دے رہا ہے کہ جنگ بندی کا دائرہ لبنان تک وسیع کیا جائے۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے بھی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو فوری رکوانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
مستقبل کے امکانات اور چیلنجز
اگرچہ اس وقت پاکستان کو ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اسے آبنائے ہرمز جیسے اسٹریٹیجک مسائل کے حل کے لیے درکار اثر و رسوخ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ ایک بنیادی رکاوٹ ہے جسے عبور کرنا اسلام آباد کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔
مجموعی طور پر پاکستان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ واشنگٹن اور تہران اپنے مؤقف میں لچک دکھانے کو تیار ہیں یا نہیں۔
اگر اسلام آباد اس عارضی جنگ بندی کو پائیدار امن میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو یہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں نمایاں اضافے کا باعث بنے گا۔