امریکی انتظامیہ نے لبنان کے سیاسی اور سیکیورٹی معاملات کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ پیش رفت بیروت میں تعینات امریکی سفیر مشیل عیسیٰ کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کو قائل کیا کہ لبنان کو آئندہ کے سیاسی اور سیکیورٹی لائحہ عمل کا حصہ بنانا انتہائی ضروری ہے۔
اس سلسلے میں واشنگٹن اگلے منگل کو سفارتی سطح پر ایک ابتدائی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
اس اہم ملاقات میں واشنگٹن میں تعینات لبنانی سفیر ندی حمادہ اور اسرائیلی سفیر یحییٰ لیٹر وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دفتر میں ملیں گے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا۔
مستقبل کے لائحہ عمل کے تحت لبنانی وفد کی قیادت سائمن کرم کریں گے۔
اس عمل کے لیے سیکیورٹی، سیاسی اور تکنیکی امور پر مشتمل خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے زیر التوا معاملات کو حل کرنا اور باہمی تنازعات کا خاتمہ ہے۔
یہ پیش رفت لبنانی صدر جوزف عون کی درخواست پر عمل میں آئی ہے، جنہوں نے دو اہم اہداف مقرر کیے ہیں۔
ان میں پہلا اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا آغاز ہے، جبکہ دوسرا لبنان کو ایران کے ساتھ جاری وسیع تر مذاکرات اور جنگ بندی کے معاہدوں میں شامل کروانا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا موجودہ رجحان جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور کثیر الجہتی مذاکراتی عمل شروع کرنے پر مرکوز ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے ’کان‘ کے مطابق امریکی دباؤ کے بعد اسرائیل نے اگلے ہفتے واشنگٹن میں لبنان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو سکے۔
مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا جنگ بندی کے قیام اور حزب اللہ کے مسلح ڈھانچوں کو تحلیل کرنے پر مرکوز ہوگا۔
تاہم اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ اگر حزب اللہ نے اپنے حملے بند نہ کیے تو وہ ان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کی شام اعلان کیا تھا کہ انہوں نے لبنان کے ساتھ جلد از جلد براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔