توجہ اسلام آباد کی جانب مرکوز ہے جہاں امریکی اور ایرانی تجاویز کو آئندہ مذاکرات کی بنیاد سمجھا جا رہا ہے، یہ پیش رفت دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد سامنے آئی ہے جو کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی راستے کو موقع دینے کے لیے کی گئی تھی۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب تنازع ایک کھلے تصادم کے قریب پہنچ گیا تھا، جس کے بعد فریقین کو محدود وقت کے لیے بات چیت کا موقع دیا گیا جبکہ پاکستان کی سطح پر سیاسی و عسکری سفارت کاری بھی فعال ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی دستاویز
امریکی مؤقف بنیادی طور پر سکیورٹی اور عسکری پہلوؤں پر مرکوز ہے۔
اس میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل آزادی کی ضمانت، اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر سخت حدود شامل ہیں، جن میں اس کے دائرہ کار، تعداد اور استعمال کو محدود کرنا شامل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکی تجویز میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت شقیں موجود ہیں، جن میں مکمل جوہری صلاحیتوں اور تنصیبات کا خاتمہ، ایران میں یورینیم افزودگی پر پابندی، اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کی حوالگی اور فوردو، اصفہان اور نطنز جیسے مراکز کو ختم کرنے کی شرط شامل ہے۔
علاقائی سطح پر واشنگٹن ایران سے خطے میں اپنے اتحادی مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، جس کے بدلے میں پابندیاں اٹھانے اور ’اسنَیپ بیک‘ میکانزم کے خاتمے کی پیشکش کی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی صبح اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی ثالثی سے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، تاہم اس کو آبنائے ہرمز کی فوری اور مکمل بحالی سے مشروط کیا گیا ہے۔
ایرانی دستاویز
ایرانی مؤقف ’برابری کے اصول‘ پر مبنی ہے۔
تہران کا مطالبہ ہے کہ اس کے خلاف تمام حملے اور اتحادیوں پر کارروائیاں مکمل طور پر روکی جائیں اور جنگ کے نقصانات کا معاوضہ دیا جائے۔
ایران تمام پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے، جن میں امریکی، ثانوی اور اقوام متحدہ کی پابندیاں شامل ہیں، ساتھ ہی جوہری توانائی ایجنسی سے متعلق اقدامات بھی ختم کیے جائیں۔ تہران یہ بھی چاہتا ہے کہ اسے یورینیم افزودگی کا باقاعدہ حق تسلیم کیا جائے، جبکہ سطح کے حوالے سے بعد میں بات چیت کی جا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے لیے ایران نے عارضی انتظام کی تجویز دی ہے، جس کے تحت دو ہفتوں تک محدود اور منظم بحری آمدورفت کی اجازت دی جائے۔
’تیسری دستاویز‘ کا امکان
اگرچہ دونوں فریقوں کے مؤقف میں واضح اختلاف ہے، لیکن ایک ’تیسری دستاویز‘ یا مشترکہ فریم ورک ابھرنے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں، جو مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس میں آبنائے ہرمز کی سلامتی، جوہری پروگرام پر شفافیت اور نگرانی اور پابندیوں کے خاتمے کے بدلے میں کشیدگی میں کمی جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔
اس ممکنہ فریم ورک میں امریکی افواج کے مرحلہ وار انخلا، ’اسنَیپ بیک‘ میکانزم کے خاتمے، اور وسیع تر علاقائی تصفیے کے عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بحران صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اس کے اثرات خطے کے دیگر مسائل جیسے خلیجی سلامتی، لبنان، عراق اور عالمی توانائی راستوں تک پھیل چکے ہیں جبکہ زمینی سطح پر کشیدگی اور خلاف ورزیاں صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا رہی ہیں۔