امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول نے وال اسٹریٹ کے بینکرز کو واشنگٹن طلب کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق اس ہنگامی اجلاس کا مقصد مالیاتی نظام کو درپیش سائبر خطرات پر قابو پانا ہے۔
حکام نے کمپنی ’Anthropic‘ کے نئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈل ’Mythos‘ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ ماڈل عالمی مالیاتی نظام کے لیے نئے سائبر خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
اس اچانک اجلاس میں سٹی گروپ، مورگن اسٹینلے اور گولڈمین سیچس سمیت تمام بڑے بینکوں کے سربراہان شریک ہوئے۔
اس اہم اجلاس میں حکام نے بینکوں کو اپنے دفاعی نظام کو فوری طور پر مزید مضبوط کرنے کی ہدایات کی ہیں۔
واضح رہے کہ کمپنی کے مطابق ’Mythos‘ تمام آپریٹنگ سسٹمز اور ویب براؤزرز میں موجود سیکیورٹی خامیاں تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس طاقتور سسٹم کی وجہ سے اس کی رسائی کو فی الحال محدود رکھا گیا ہے اور آغاز میں یہ ٹیکنالوجی صرف ایمیزون، ایپل اور جے پی مورگن جیسی بڑی کمپنیوں کو فراہم کی گئی ہے۔
اس منصوبے کا مقصد اہم حساس نظاموں کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
واضح رہے کہ کمپنی ’Anthropic‘کو اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قانونی جنگ کا بھی سامنا ہے۔ پینٹاگون نے اس کمپنی کو سپلائی چین کے لیے خطرہ قرار دے کر بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب کمپنی نے حکومتی فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا مگر اب تک اسے کامیابی نہیں ملی۔ یہ صورتحال ٹیکنالوجی کمپنیوں اور وفاقی ریگولیٹرز کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔