اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

قالیباف کے 10 مطالبات اور وینس کی شرائطی دستاویز آمنے سامنے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: العربیہ)

اسلام آباد کی جانب نظریں مرکوز ہیں جہاں آج جمعہ کو امریکی وفد، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں اور ایرانی وفد، جس کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، براہِ راست مذاکرات کے لیے پہنچ رہے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدہ طے کیا جا سکے۔ 

یہ پیش رفت دو روز قبل اعلان کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے تناظر میں ہو رہی ہے، جبکہ دونوں فریقوں کی ممکنہ شرائط اور نکات پر سوالات بھی بڑھ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں

10 نکاتی منصوبہ کیا ہے؟

ایرانی فریق نے حال ہی میں 10 نکات پر مشتمل ایک منصوبے کے بعض پہلو جاری کیے ہیں، جسے اس نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد قرار دیا ہے۔

ان نکات میں آبنائے ہرمز کی نئی صورتحال، ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ اور یورینیم کی افزودگی کو تسلیم کرنے کے ساتھ اس

 کی سطح پر بات چیت شامل ہے جبکہ تمام محاذوں (بشمول لبنان) پر جنگ کے خاتمے کی بات بھی کی گئی ہے۔

مزید برآں، اس منصوبے میں خطے میں موجود امریکی افواج کا تمام اڈوں اور عسکری مقامات سے انخلا اور جنگ سے ہونے والے نقصانات پر تہران کو معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

baqar qalibaf and j d venus
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اس کے علاوہ، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز اور سلامتی کونسل کی ایران مخالف قراردادوں کی منسوخی اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں اور رقوم کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان انتظامات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے منظور کیا جائے اور معاہدے کو ایک بین الاقوامی قانون کی شکل دی جائے تاکہ اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

ہرمز اور جوہری پروگرام

دوسری جانب امریکی حکام بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جائے اور وہاں بحری آمد و رفت کو محفوظ بنایا جائے۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں، اگرچہ تہران نے جنگ بندی کے حصے کے طور پر اس اہم راستے کو دوبارہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں دے گا، اگرچہ انہوں نے ملک کے اندر موجود زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کی اہمیت کو کم قرار دیا۔

مزید یہ کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی میزائل پروگرام، خصوصاً طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور خطے میں مسلح گروہوں، خاص طور پر عراق اور لبنان میں، ایران کی حمایت کے خاتمے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔

WhatsApp Image 2026 04 06 at 11.25.49 AM

ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک مذاکرات میں بھرپور شرکت کرے گا جبکہ ٹرمپ نے گزشتہ شام کسی معاہدے تک پہنچنے پر امید کا اظہار کیا۔

تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ دونوں فریقوں کے سخت مؤقف، خاص طور پر ایران کا افزودگی کے حق پر اصرار اور آبنائے ہرمز پر کسی نہ کسی شکل میں کنٹرول برقرار رکھنے کی خواہش، ان مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتی ہے، جو بہرحال آسان نہیں ہوں گے، خصوصاً جنگ میں ایران کو ہونے والے بڑے نقصانات کے پیش نظر۔