اگست 2027 میں دنیا ایک شاندار اور طویل ترین مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ کرے گی۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق اس فلکیاتی واقعے کی خاص بات اس کا طویل دورانیہ ہے، جو تقریباً 6 منٹ اور 23 سیکنڈ تک جاری رہے گا۔ ایسی نایاب صورتحال 2114ء تک دوبارہ دیکھنے کو نہیں ملے گی۔
سائنس دانوں کے مطابق چاند کا سایہ جنوب مغربی یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے وسیع علاقوں پر پڑے گا۔
یہ گرہن گنجان آباد علاقوں سے گزرے گا، جس سے عام لوگوں کے لیے
اس کا مشاہدہ کرنا آسان ہوگا۔ ماہرین اسے صدی کا ایک اہم ترین فلکیاتی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔
ناسا کے ماہرین کی رائے
ناسا کی ایکلیس پروگرام سائنٹسٹ ڈاکٹر کیلی کوریک کے مطابق اس قدر طویل دورانیے کا گرہن کئی دہائیوں تک دوبارہ نہیں ہوگا۔
اگست 2027 میں ہونے والا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد تجربہ ہوگا جو 2114 تک ممکن نہیں، لہذا یہ وقت سائنسی مشاہدات کے لیے انتہائی اہم ہے۔
کن ممالک میں نظارہ ممکن ہوگا؟
اس گرہن کا راستہ اسپین، جبرالٹر، مراکش، الجزائر، تیونسیہ، لیبیا اور مصر سے ہوتا ہوا سعودی عرب، یمن اور صومالیہ تک جائے گا۔
مصر کا شہر الاقصر بھی اس گرہن کے مرکز میں ہوگا جہاں گرہن کا دورانیہ سب سے طویل اور واضح ترین ہوگا۔
دن کے وقت اچانک اندھیرا
یاد رہے کہ مکمل سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند، سورج اور زمین کے درمیان آ جاتا ہے اور سورج کی روشنی مکمل ڈھک جاتی ہے۔
اس دوران اچانک دن میں اندھیرا چھا جاتا ہے، درجہ حرارت میں نمایاں کمی ہوتی ہے اور سورج کا بیرونی حصہ ایک روشن ہالے کی طرح چمکتا دکھائی دیتا ہے۔
طویل دورانیہ کیوں؟
اس گرہن کا طویل دورانیہ 3 عوامل پر منحصر ہے۔
پہلا یہ کہ چاند زمین کے قریب ترین نقطے پر ہوگا، دوسرا زمین سورج سے دُور ترین فاصلے پر ہوگی اور تیسرا یہ کہ گرہن کا راستہ خط استوا کے قریب ہونے کے باعث سائے کی رفتار دھیمی رہے گی۔
یہ فلکیاتی واقعہ محض ایک دلچسپ منظر نہیں بلکہ سائنسی تحقیق کا ایک نادر موقع ہے۔