ایران امریکا جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک میں فضائی نقل و حمل بتدریج معمول پر آ رہی ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق بیشتر ممالک نے اپنی فضائی حدود بین الاقوامی پروازوں کے لیے کھول دی ہیں، جس سے ایوی ایشن سیکٹر میں اعتماد بحال ہوا ہے۔
یاد رہے کہ کشیدگی کے دوران خطے کے متعدد ممالک نے اپنی فضائی حدود جزوی یا مکمل طور پر بند کر دی تھیں، جس کے باعث درجنوں پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑیں۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے ایئرلائنز کو آپریشنل نقصانات اور ایندھن کے بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑا۔
حالیہ جنگ بندی کے نفاذ کے ساتھ ہی فضائی حدود کو مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے اور پروازیں اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق بحال ہو رہی ہیں۔
تاہم حکام کی جانب سے فضائی حفاظت اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تاحال کچھ احتیاطی تدابیر برقرار رکھی گئی ہیں۔
تازہ پیش رفت میں دبئی اور حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ جیسے اہم مراکز میں فضائی سرگرمیوں کی بحالی تیز رفتاری سے ہوئی ہے۔
جنگ بندی کے بعد پہلے 2 دنوں کے دوران ٹرانزٹ اور طویل فاصلے کی پروازوں کی واپسی سے آپریشنل سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو خوش آئند ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق تعطل کا شکار 85 فیصد سے زائد پروازیں معمول کے راستوں پر واپس آ چکی ہیں۔
ایئرلائنز نے اب اپنے آپریشنز کو ازسرنو ترتیب دینا شروع کر دیا ہے تاکہ نقصانات کا ازالہ اور بڑھتے ہوئے سفری مطالبے کو پورا کیا جا سکے۔
دوسری جانب کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ تاحال مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا ہے۔
تکنیکی اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث یہ خطے کا واحد ایئرپورٹ ہے جو معمول کے مطابق آپریشنز شروع نہیں کر سکا، کیونکہ حکام ابھی تک سیکیورٹی اور موسمی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
فضائی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ایئرپورٹس کی تیز رفتار بحالی اس خطے کے مضبوط بنیادی ڈھانچے اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ پیش رفت خلیجی خطے کو عالمی ایوی ایشن حب کے طور پر مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
توقع ہے کہ آئندہ چند دنوں میں فضائی ٹریفک اپنی مکمل استعداد کے مطابق بحال ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ خلیجی ایئرلائنز موسم گرما کے دوران بہترین کارکردگی کے لیے پُرامید ہیں، جس سے پچھلے ہفتوں کے دوران ہونے والے مالی نقصانات کے ازالے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔