اسرائیل کی جانب سے لبنان پر مسلسل حملوں کے تناظر میں ایران نے کہا ہے کہ اس نے جنگ بندی معاہدے کی ان خلاف ورزیوں پر اپنا ردِعمل عارضی طور پر روک دیا ہے، جس کی وجہ پاکستان کی مداخلت ہے۔
العربیہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے معاون سعید خطیب زادہ نے بتایا ہے کہ ایران گزشتہ رات جنگ بندی کی خلاف ورزی اور لبنان پر حملوں کے جواب میں بھر پور کارروائی کے قریب تھا تاہم پاکستانی مداخلت کے باعث اس نے ایسا نہیں کیا۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا ہے کہ اسلام آباد نے اپنی ثالثی کے تحت تہران کو پیغامات پہنچائے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو قابو میں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایرانی وفد اسلام آباد میں امن مذاکرات کے لیے جائے گا لیکن امریکہ کو اپنے وعدے کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے ہوں گے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں کسی بھی امن عمل میں لبنان کا شامل ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ آنے والے گھنٹے نہایت اہم ہیں۔
"پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تصدیق کی کہ جنگ بندی کی تجویز میں لبنان شامل ہے اور یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جو ایران کی جانب سے پیش کئے گئے 10 نکاتی معاہدے کا حصہ ہے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کھل کر لبنان کے مسئلے پر زور دیا ہے‘۔
اور مزید کہا ’اب انکار یا پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں‘۔
انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی واضح قیمت اور سخت ردعمل ہوگا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی لبنان پر اسرائیلی حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ ان حملوں کا تسلسل مذاکرات کو بے معنی بنا دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری انگلیاں ٹریگر پر رہیں گی اور ایران اپنے لبنانی بھائیوں اور بہنوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
ادھر پاکستان، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے، نے کہا ہے کہ عارضی جنگ بندی تمام محاذوں پر لاگو ہوتی ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ لبنان کو شامل نہیں کرتا جس سے جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے متوقع مذاکرات سے قبل صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے بدھ کی صبح پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔