امریکا اور ایران کے مابین دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود دنیا بھر کے آئل ٹینکرز اور شپنگ کمپنیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے میں محتاط ہیں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق اس اہم بحری گزرگاہ کے دوبارہ کھلنے کے باوجود مالکان اپنی جہازوں کو خطرے میں ڈالنے سے گریزاں ہیں۔
شپنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تکنیکی طور پر بحری راستے کھول دیے گئے ہیں، لیکن مالکان جنگ بندی کے کسی بھی وقت معطل ہونے کے خوف میں بھی مبتلا ہیں۔
انہیں خدشہ ہے کہ اگر معاہدہ ناکام ہوا تو ان کے جہاز خلیج عرب میں
پھنس سکتے ہیں، جس سے شدید مالی اور آپریشنل نقصان ہوگا۔
توانائی کی سپلائی پر اثرات
تجزیہ کاروں اور بی بی سی ریڈیو 4 کی رپورٹ کے مطابق جب تک صورتحال مکمل واضح نہیں ہوتی، ایندھن کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔
میرسک جیسی بڑی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ فی الحال سیکیورٹی کی کوئی ایسی ضمانت نہیں جس پر مکمل بھروسا کیا جا سکے۔
کمپنیاں کسی بھی نئے سفر سے قبل جنگ بندی کی شرائط، ایرانی افواج کے ساتھ ممکنہ رابطہ اور آبنائے ہرمز کو عبور کرنے کی شرائط مکمل طور پر سمجھنا چاہتی ہیں۔
جہازوں کی واپسی کو ترجیح
ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال توجہ خلیج عرب میں پھنسے تقریباً 130 کنٹینر جہازوں کو نکالنے پر مرکوز ہے۔
کمپنیاں صرف ان جہازوں کو مختصر سفر کے لیے استعمال کرنے کا سوچ رہی ہیں جو ساحل کے قریب ہیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انہیں فوری واپس بلایا جا سکے۔
مستقبل کے امکانات
لائڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کے مطابق علاقے میں حقیقی کشیدگی تاحال برقرار ہے۔ جنگ بندی ایک مثبت قدم ہے، لیکن یہ تجارتی سرگرمیوں کی مکمل بحالی کے لیے کافی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاوقتیکہ سیکیورٹی کی ٹھوس ضمانت نہ ملے، عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی میں تعطل جاری رہنے کا قوی امکان موجود ہے۔
مبصرین کے مطابق عارضی جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں شپنگ انڈسٹری محتاط انداز اپنائے ہوئے ہے۔
جب تک سیاسی اور سیکیورٹی خدشات ختم نہیں ہوتے، دنیا کو توانائی کی سپلائی میں تعطل اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا رہے گا، کیونکہ تاجروں کے لیے سلامتی اور رسد کا تسلسل سب سے مقدم ہے۔