دنیا کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر مرکوز ہیں جہاں ہفتے کے روز ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق توقع ہے کہ یہ بات چیت مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے لیے دونوں ممالک نے اپنے اعلیٰ سطح کے وفود تشکیل دیے ہیں۔
ایرانی وفد کے قائد محمد باقر قالیباف
ایرانی وفد کی سربراہی اسپیکر پارلیمان محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔
23 اگست 1961 کو پیدا ہونے والے قالیباف کو ایرانی سیاست میں ایک
مضبوط اور عملیت پسند رہنما سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایرانی فضائیہ کے کمانڈر، میئر تہران اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
قالیباف ایرانی پاسداران انقلاب کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور انہیں علی لاریجانی کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ملک کا طاقتور ترین سیاسی کردار مانا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق وہ جنگی کوششوں اور سفارتی محاذ دونوں پر کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، خاص طور پر حالیہ کشیدہ صورتحال میں ان کی حکمت عملی اہم رہی ہے۔
امریکی وفد کے سربراہ جے ڈی وینس
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔
2 اگست 1984 کو اوہائیو میں پیدا ہونے والے وینس نے اپنی زندگی میں کئی نشیب و فراز دیکھے۔ انہوں نے امریکی میرین کور میں خدمات انجام دیں اور 2013 میں ییل لا اسکول سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
وینس اپنی کتاب ’ہل بلی ایلیجی‘ (Hillbilly Elegy) سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے اور 2022 میں سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلیف سمجھے جانے والے وینس اب اپنی سیاسی زندگی کے مشکل اور اہم ترین مشن پر ہیں، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری غیر یقینی صورتحال اور جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
مذاکرات کا پس منظر اور توقعات
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ مذاکرات ایک انتہائی نازک موڑ پر ہو رہے ہیں۔
واشنگٹن میں قالیباف کو مستقبل کے ممکنہ ایرانی رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ تہران جے ڈی وینس کو دیگر امریکی عہدیداروں کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد اور موثر مذاکرات کار تصور کرتا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہوں گے، جبکہ امریکی ٹیم میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود ہوں گے۔
دنیا بھر کی نظریں اس وقت صرف اسی بات پر جمی ہیں کہ آیا یہ وفود ایک پائیدار جنگ بندی کے کسی نتیجے پر پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی بدلتی ہوئی اور کشیدہ صورتحال میں یہ مذاکرات ایک آزمائش ہیں۔
اگرچہ فریقین نے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ایران کا یہ دعویٰ کہ معاہدے کے 3 نکات کی خلاف ورزی ہو چکی ہے، معاہدے کے عمل کو پیچیدہ بناتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار قیادت کے درمیان باہمی اعتماد کی بحالی اور ٹھوس عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔