اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ایرانی سفیر کی ٹوئٹ اچانک ڈیلیٹ: جنگ بندی مذاکرات پر قیاس آرائیاں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پاکستان میں ایرانی سفیر کی ٹویٹ اور جنگ بندی مذاکرات کی تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی ایک پوسٹ کو حذف کیے جانے کے بعد خطے میں جاری کشیدگی اور مذاکرات کے حوالے سے نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق ایرانی سفیر نے اپنی ٹویٹ میں تہران کے وفد کی مذاکرات کے لیے اسلام آباد آمد کا ذکر کیا تھا۔

پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے باوجود ایرانی وفد وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر اسلام آباد پہنچ رہا ہے تاکہ ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی فارمولے پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔

تاہم ٹویٹ کے اچانک حذف ہونے سے اس حساس وقت میں کئی سوالات جنم لے چکے ہیں۔

تہران اور واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کے باوجود ایرانی سفیر کے اس اقدام نے وفد کی آمد کو مشکوک بنا دیا ہے۔

iran ambassador to pakistan raza ameeri moghadam
پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا ٹوئٹ جسے حذف کردیا گیا (فوٹو: ایکس)

اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کے ایک عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ پوسٹ کو تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔

انہوں نے وفد کی آمد کی تصدیق سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وقت کے لحاظ سے یہ ٹویٹ نہیں کرنی چاہیے تھی۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران نے بدھ کے روز پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد مذاکرات کے ذریعے 28 فروری سے جاری جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔ 

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے ختم ہونے سے کچھ دیر قبل ہی سامنے آئی تھی۔

ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے ایرانی تہذیب کو تباہ اور اسے پتھر کے دور میں پہنچانے کی بات کی تھی۔

اس کشیدہ ماحول میں جنگ بندی کے باوجود فریقین کے درمیان براہ راست دھمکیاں بدستور جاری ہیں۔

war 13th day trump iran attack
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

واضح رہے کہ تاحال جنگ بندی کے دائرہ کار پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ پاکستان اور ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ لبنان پر بھی لاگو ہوتا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل نے اس کی تردید کی ہے۔

اسی اثنا میں اسرائیلی فوج نے لبنان پر شدید فضائی حملے کیے ہیں اور مقامی سول ڈیفنس کے مطابق ان حملوں میں 254 افراد ہلاک اور 1165 زخمی ہوئے ہیں۔ 

اسرائیلی فوج کی اس تازہ جارحیت پر عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ 

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

اسی طرح ایرانی حکام نے جنگ بندی کے 3 نکات کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا ہے، جن میں لبنان کا شامل نہ ہونا، یورینیم افزودگی کے حق سے انکار اور تہران کی فضا میں ڈرون کی موجودگی شامل ہے۔ 

ان واقعات نے مذاکرات کی کامیابی کو کسی حد تک غیر یقینی بنا دیا ہے، تاہم دنیا بھر کی نظریں اس وقت فریقین پر مرکوز ہیں۔