اسرائیلی فوج کی انٹیلی جنس ڈویژن نے ایران میں زیر زمین موجود افزودہ یورینیم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ایک خصوصی انتباہی ماڈل تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ اقدام خاص طور پر اصفہان اور نطنز کی جوہری تنصیبات پر مرکوز رہے گا۔
اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق فوج ایک خصوصی ورکنگ سیل تشکیل دے رہی ہے جو ایران کی جانب سے زیر زمین یورینیم نکالنے کی کسی بھی کوشش پر فوری طور پر فیصلہ سازوں کو خبردار کرے گا۔
اس مقصد کے لیے تمام انٹیلی جنس صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں گی۔
اس حساس معاملے پر اسرائیل اور امریکہ کے درمیان قریبی رابطہ قائم ہے اور دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایسی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اس سلسلے میں حاصل ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین باقاعدگی سے کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں پر محیط جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے جس کا نفاذ بدھ کے روز سے ہو چکا ہے۔
اس معاہدے کا انکشاف پاکستان نے صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل کیا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا تو امریکہ وسیع پیمانے پر حملے کرے گا جس سے ایرانی تہذیب مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
اسی دباؤ اور دھمکیوں کے پیش نظر فریقین نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کل جمعہ کے روز امریکہ اور ایران کے وفود کی میزبانی کرے گا تاکہ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کو مستقل ختم کرنے کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں۔
ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین حکام شرکت کریں گے۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جن کے ساتھ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی مشترکہ طور پر کریں گے۔