براہ راست نشریات

اسرائیل: ایرانی جوہری پروگرام پر نظر رکھنے کے لیے انتباہی نظام کی تیاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایرانی جوہری پروگرام کی نگرانی کے لیے اسرائیل کا جدید انٹیلی جنس ماڈل
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اسرائیلی فوج کی انٹیلی جنس ڈویژن نے ایران میں زیر زمین موجود افزودہ یورینیم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ایک خصوصی انتباہی ماڈل تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق یہ اقدام خاص طور پر اصفہان اور نطنز کی جوہری تنصیبات پر مرکوز رہے گا۔

اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق فوج ایک خصوصی ورکنگ سیل تشکیل دے رہی ہے جو ایران کی جانب سے زیر زمین یورینیم نکالنے کی کسی بھی کوشش پر فوری طور پر فیصلہ سازوں کو خبردار کرے گا۔

اس مقصد کے لیے تمام انٹیلی جنس صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں گی۔

اس حساس معاملے پر اسرائیل اور امریکہ کے درمیان قریبی رابطہ قائم ہے اور دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایسی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں حاصل ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین باقاعدگی سے کیا جائے گا۔

iranian bushehr city nuclear plant

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں پر محیط جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے جس کا نفاذ بدھ کے روز سے ہو چکا ہے۔

اس معاہدے کا انکشاف پاکستان نے صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل کیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا تو امریکہ وسیع پیمانے پر حملے کرے گا جس سے ایرانی تہذیب مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ 

اسی دباؤ اور دھمکیوں کے پیش نظر فریقین نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

pakistan iran us

واضح رہے کہ اسلام آباد کل جمعہ کے روز امریکہ اور ایران کے وفود کی میزبانی کرے گا تاکہ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کو مستقل ختم کرنے کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں۔

ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین حکام شرکت کریں گے۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جن کے ساتھ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی ہوں گے۔ 

دوسری جانب ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی مشترکہ طور پر کریں گے۔