اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

اسلام آباد مذاکرات سے قبل ایران کا جوہری پروگرام محدود کرنے سے انکار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اسلام آباد مذاکرات اور ایران کا جوہری پروگرام کا تنازع
دشمن ایران کی یورینیم افزودگی کو محدود کرنے میں ناکام رہے گا، محمد اسلامی (فوٹو: انٹرنیٹ)

اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان متوقع مذاکرات سے قبل تہران نے اپنے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے واضح کیا ہے کہ دشمن ایران کی یورینیم افزودگی کو محدود کرنے میں ناکام رہے گا۔

محمد اسلامی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کا تحفظ ناگزیر ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے وفود اہم 

بات چیت کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی 2 ہفتوں پر مشتمل عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی پر سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کا فوری، فیصلہ کن اور دردناک جواب دیا جائے گا۔

head of the Atomic Energy Organization of Iran muhammad islami
ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی (فوٹو: اسنا)

دریں اثنا ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے تصدیق کی ہے کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف مذاکراتی وفد کی قیادت کریں گے جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ثالثی میں فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خطیب زادہ نے کہا کہ اس گزر گاہ کو اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کے بعد بند کیا گیا ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ اسرائیل کے لبنان پر حملے رکنے کے بعد بین الاقوامی قوانین کے مطابق جہاز رانی بحال کر دی جائے گی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ 

iranian parliament speaker mohammad bagher ghalibaf
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف (فوٹو: انٹرنیٹ)

اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ تہران کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی اور آبنائے ہرمز کی بندش ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جب تک کوئی حقیقی سمجھوتا نہیں ہوتا، امریکی فوج ایران کے قریب اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز جنگ بندی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا، تاہم لبنان کے معاملے پر ٹرمپ کے بیان سے پیدا ہونے والی الجھن تاحال برقرار ہے۔ 

ایرانی پاسداران انقلاب نے لبنان کو معاہدے سے خارج کرنے کی صورت میں جنگ بندی معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔