مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران ایران امریکا ممکنہ جنگ کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں کو 2 ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے کے اعلان نے خطے کو ایک نئی سیاسی اور عسکری حقیقت کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔
مذاکرات کا نیا رُخ اور اسلام آباد کی ثالثی
پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، جس کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران مذاکرات پر آمادہ ہوچکے ہیں۔
اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ رابطوں میں اہم کردار ادا کیا، جس سے حتمی تصادم کے قریب پہنچ جانے کے بعد صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
مذاکراتی وفد اور اسٹریٹیجک اہمیت
ایران نے اپنی مذاکراتی ٹیم میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کو سربراہ مقرر کیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ قالیباف کی شمولیت اس بات کی عکاس ہے کہ اب تہران سفارتکاری کے بجائے براہ راست عسکری اور سیکیورٹی سطح پر بات چیت کو ترجیح دے رہا ہے۔
واشنگٹن کا بدلتا مؤقف اور جے ڈی وینس
تہران نے سابقہ امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اب اطلاعات ہیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکراتی عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکام وینس کو زیادہ حقیقت پسندانہ اور جنگ مخالف خیالات کا حامل سمجھتے ہیں، جو کسی سمجھوتے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز اور جنگ کا خطرہ
امریکی حملے کی مہلت ختم ہونے سے صرف 90 منٹ قبل ٹرمپ نے حملے کو مشروط طور پر روکنے کا اعلان کیا۔
اس فیصلے کی بنیاد آبنائے ہرمز کی بحالی ہے۔ تہران کی جانب سے ابتدائی مثبت اشاروں نے عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور استحکام کو یقینی بنایا ہے۔
تازہ حالات اور جغرافیائی چیلنجز
واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ وقتی جنگ بندی جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی فضائی کارروائیوں پر اثر انداز نہیں ہوئی، جس سے اس سمجھوتے کی محدود نوعیت کا پتا چلتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والی یہ ثالثی طویل عرصے سے جاری خفیہ رابطوں کا نتیجہ ہے۔
عالمی ضمانتیں اور مستقبل کے امکانات
سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کے مطابق ایران نے 10 نکاتی فارمولا پیش کیا ہے، جس پر اب دونوں اطراف سے بات چیت ہو رہی ہے۔
اگرچہ حتمی معاہدہ تاحال دُور ہے، تاہم ایران کا براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہونا بڑی پیشرفت ہے۔ مستقبل میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل یا چین جیسے ممالک ضمانت کے طور پر شامل ہو سکتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت ایک اہم سفارتی کامیابی ہے، تاہم یہ صرف ایک عبوری حل ہے۔
جنگ کے بادل چھٹنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بنیادی اختلافات ختم ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ چند دن انتہائی اہم ہیں، جن میں دونوں ممالک کی جانب سے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ ہی خطے میں دیرپا استحکام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔