امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
مزید پڑھیں
اس پیش رفت نے ایک جانب جہاں سرمایہ کاروں کے خدشات کو دور کیا ہے، وہیں ایشیا، یورپ اور امریکہ کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں تیزی بھی دیکھی جا رہی ہے۔
خلیجی منڈیوں میں غیر معمولی تیزی
جنگ بندی کے فوراً بعد خلیجی منڈیوں میں توانائی اور بینکنگ کے حصص میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
بدھ کے روز سعودی اسٹاک مارکیٹ 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ کھلی، جبکہ دبئی اسٹاک ایکسچینج میں 8.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ 11 برس میں ایک دن کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
اسی طرح ابوظبی کے انڈیکس میں بھی 4.9 فیصد تک تیزی دیکھی گئی، جس میں بینکنگ، رئیل اسٹیٹ اور لاجسٹک کمپنیوں کے سودے نمایاں رہے۔
اُدھر قطر اسٹاک ایکسچینج بھی 3.4 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی، جہاں قطر انڈسٹریز اور گیس ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے حصص نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی۔
ایشیا اور یورپ میں اثرات
مشرقی ایشیا میں جاپان کا نکی انڈیکس 5.4 فیصد اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 6.8 فیصد بڑھا۔ اسی طرح چین کی شنگھائی اسٹاک ایکسچینج بھی 3.1 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی۔
عالمی منڈیوں میں یہ بحالی طویل عرصے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔
یورپی منڈیوں کا انڈیکس ’اسٹوکس 600‘ بھی 3.67 فیصد اضافے کے ساتھ 612.28 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔
فرانس کا ’کاک 40‘ انڈیکس 4 فیصد اور جرمنی کا ’ڈیکس‘ انڈیکس 5 فیصد تک اوپر گیا، جبکہ برطانوی ’فائننشل ٹائمز 100‘ میں 2.33 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
توانائی بحران میں کمی کا امکان
28 فروری کو شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد یورپی منڈیاں بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔
نئی پیش رفت کے بعد اب توانائی کی لاگت میں کمی کے پیش نظر سفر، صنعت اور بینکنگ کے شعبوں میں 5 سے 7 فیصد تک بہتری آئی ہے، البتہ خام تیل کے نرخ گرنے سے توانائی کے شعبے میں 4.2 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔
ادھر امریکی اسٹاک مارکیٹ کے فیوچرز میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جہاں ’ایس اینڈ پی 500‘، ’نیس ڈیک‘ اور ’ڈاؤ جونز‘ کے کنٹریکٹس میں ڈھائی سے 3 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی نے عالمی معیشت کو درپیش سب سے بڑے خطرے یعنی آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل میں خلل کو فی الحال ٹال دیا ہے۔
یہ پیش رفت عارضی ہے یا مستقل، اس کا انحصار اب سیاسی استحکام اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں مستقل توازن پر ہوگا۔