اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

پاکستانی ثالثی میں ایران جنگ بندی کے اعلان سے قبل کیا ہوا؟ جانیے!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم موڑ سامنے آیا ہے، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ اقدام خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے اور عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام لانے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اس جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی جانب سے پیش کردہ فارمولے کے تحت فوری جنگ بندی اور 15 سے 20 دنوں  پر محیط مذاکراتی عمل کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں لبنان کا محاذ بھی شامل ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس پیشرفت کو واشنگٹن کے لیے ایک مکمل کامیابی قرار دیا ہے۔

معاہدے کے تحت امریکہ دو ہفتوں تک ایران پر حملے معطل رکھے گا، جبکہ ایران آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے فوری طور پر محفوظ اور مکمل طور پر کھول دے گا۔

pakistan us iran war
(فوٹو: اے آئی)

اُدھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ تہران نے وزیراعظم پاکستان کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایرانی سرزمین پر حملے بند رہے تو ایرانی مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دیں گی اور آبنائے ہرمز سے گزر محفوظ ہوگا۔

قبل ازیں ایران نے 10 نکاتی امن فارمولا پیش کیا تھا، جسے ٹرمپ نے قابل عمل قرار دیا ہے۔ 

اس میں جوہری افزودگی کی قبولیت، پابندیوں کا خاتمہ، ایران کو معاوضے کی ادائیگی، امریکی افواج کا انخلا اور تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ جیسے نکات شامل ہیں جن پر مذاکرات ہوں گے۔

trump netanyahu
(فوٹو: انٹرنیٹ)

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک متضاد بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دو ہفتوں کی یہ جنگ بندی لبنان کے محاذ پر لاگو نہیں ہوگی۔

یہ اعلان وزیراعظم پاکستان کے اس دعوے سے مختلف ہے جس میں انہوں نے لبنان کو بھی شامل بتایا تھا۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے جہاں سے دنیا بھر کی 20 فیصد تیل اور گیس گزرتی ہے۔ اس کا بند ہونا عالمی معیشت کے لیے خطرہ تھا۔

اس راستے کو بحال کرنا امریکہ اور عالمی برادری کی اولین ترجیح رہی ہے۔

حالیہ جنگ بندی گزشتہ 6 ہفتوں کی شدید فوجی کشیدگی کے بعد ہوئی ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ایران کے بنیادی ڈھانچے، بشمول پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا، جس سے خطہ تباہی کے دہانے پر تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ 2 ہفتے انتہائی اہم ہوں گے جن میں سفارتی کوششیں تیز کی جائیں گی۔ 

اس دوران اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی متوقع ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس نے ان مذاکرات پر غور شروع کر دیا ہے۔