پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف صدر ٹرمپ سے مہلت دو ہفتے کے لیے بڑھانے کی درخواست کی ہے۔
اسی طرح انہوں نے ایران سے بھی درخواست کی ہے کہ دو ہفتے کے لیے ہرمز کو کھولیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں مستحکم طور پر آگے بڑھ رہی ہیں۔
دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی مہلت ختم ہونے میں اب صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس اہم موڑ پر امریکہ اور ایران کے درمیان کسی نتیجے کے لیے سفارتی کوششوں میں غیر معمولی تیزی آگئی ہے۔
پاکستان اِس وقت دونوں ممالک کے درمیان بنیادی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی مسلسل کوشش ہے کہ تہران کو بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام
نے حالیہ رابطوں میں لچک دکھائی ہے، تاہم وہ اب بھی باضابطہ مذاکرات کے لیے اپنی چند شرائط پر سختی سے قائم ہیں۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ رات سعودی عرب میں امریکی کمپنیوں پر ایرانی حملے نے مذاکرات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگر سعودی عرب نے جوابی کارروائی کی تو مذاکرات ختم ہو سکتے ہیں۔
اُدھر پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی کے لیے پاکستان کی مثبت کوششیں اب اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کی تجویز قبول نہیں کرے گا۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل پہلے بمباری روکیں اور نقصانات کا ہرجانہ ادا کریں۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ہم دباؤ میں آکر ہتھیار ڈالنے پر بالکل تیار نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ڈیڈ لائن تک معاہدہ نہ ہوا تو ایرانی انفرا اسٹرکچر کو پتھر کے دور میں پہنچا دیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایران کے حالیہ جواب کو کسی حد تک حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ خلیج اب بھی وسیع ہے لیکن کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ہنگری میں گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ڈیڈ لائن سے پہلے ایران کا مثبت جواب موصول ہو سکتا ہے تاکہ طاقت کا استعمال نہ ہو۔
اُدھر پاسداران انقلاب نے جوابی دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ پورے خطے میں تیل و گیس کی سپلائی معطل کر دیں گے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند گھنٹے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ پاکستان اب بھی فریقین کو کسی بڑے تصادم سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔