اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ایران امریکہ کشیدگی: عالمی منڈیوں کے لیے فیصلہ کن ہفتہ شروع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
تہران کے آزادی اسکوائر پر فضائی حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے (فوٹو: رائٹرز)

عالمی منڈیوں کے لیے ایک نیا اور فیصلہ کن ہفتہ شروع ہو چکا ہے، جہاں سرمایہ کار امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے معاشی اثرات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں

’انوسٹنگ ڈاٹ کام‘ کے مطابق یہ بحران توانائی کی قیمتوں، افراط زر اور مجموعی معاشی ترقی کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

جنگی صورتحال اور سفارتی کوششیں

اگرچہ جنگ بندی کے لیے 45 روزہ وقفے کی تجاویز سامنے آئی ہیں، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری فضائی حملوں نے سفارتی کوششوں کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے توانائی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکی دی ہے، جس کی ڈیڈلائن آج شب ختم ہو رہی ہے۔

تیل نرخوں میں غیر معمولی اضافہ

برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے زائد سطح پر برقرار ہے، جو 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ سے قبل 70 ڈالر تھی۔

دوسری جانب اوپیک پلس کی جانب سے 2 لاکھ 6 ہزار بیرل یومیہ پیداوار میں اضافہ مارکیٹ کے خدشات دور کرنے کے لیے ناکافی دکھائی دیتا ہے۔

امریکہ میں افراط زر اور توانائی کا دباؤ

مارچ کے افراط زر کے اعداد و شمار انتہائی اہم ہیں۔ گزشتہ 3 برس میں پہلی بار گیسولین کی قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہے۔

سرمایہ کار پرسنل کنزمپشن ایکسپنڈیچر انڈیکس (PEC)   یعنی ذاتی استعمال کے اخراجات کے اشاریہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جس سے معاشی سست روی کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

shopping center
بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے درمیان صارفین کا رویہ محتاط ہو رہا ہے (فوٹو: رائٹرز)

کارپوریٹ منافع اور معاشی استحکام

وال اسٹریٹ کے ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں شامل کمپنیوں کے منافع میں 14.4 فیصد اضافے کی توقع ہے۔

تاہم توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت خاص طور پر ایوی ایشن جیسے شعبوں کے لیے چیلنج بن چکی ہے، جس سے کمپنیوں کے اپنے منافع برقرار رکھنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

صارفین کا رویہ اور اقتصادی غیر یقینی

دوسری طرف معاشی غیر یقینی اور توانائی کی بلند قیمتوں نے صارفین کے اخراجات کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

غیر ضروری اشیا کی مانگ میں کمی کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ دباؤ برقرار رہتا ہے تو موجودہ توانائی کا بحران ایک وسیع تر معاشی سست روی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

موجودہ صورتحال جغرافیائی سیاست اور مالیاتی اشاریوں کا ایک پیچیدہ منظر نامہ بن چکی ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک سیاسی اور عسکری محاذ پر واضح پیش رفت نہیں ہوتی، عالمی منڈیاں انتہائی محتاط رہیں گی۔