اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

روس اور چین نے آبنائے ہرمز کھولنے کی بحرین کی قرارداد ویٹو کردی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منگل کے روز آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق بحرین کی پیش کردہ قرارداد ناکام ہو گئی۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق روس اور چین کی جانب سے ویٹو پاور کے استعمال کے باعث یہ اہم قرارداد کونسل سے منظور نہ ہو سکی جس سے عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔

بحرین نے یہ قرارداد متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، کویت اور اردن کی نمائندگی کرتے ہوئے پیش کی تھی۔ 

اس اقدام کا بنیادی مقصد خلیج عرب میں بحری نقل و حمل کو محفوظ 

بنانا تھا، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہم اور حساس حیثیت رکھتی ہے۔

سلامتی کونسل کے 15 میں سے 11 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ پاکستان اور کولمبیا نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ 

قرارداد کی ناکامی کے بعد عالمی برادری میں اس اہم تجارتی راستے کی بندش کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

satellite view of the strait of hormuz with white 2026 03 20 00 09 24 utc

بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ قرارداد کا مسترد ہونا ایک غلط پیغام دیتا ہے کہ بحری جہاز رانی کو درپیش خطرات پر کوئی سخت ردعمل نہیں آئے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ سمندری راستوں کو دباؤ یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ سلامتی کونسل کی خاموشی غیر ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دے گی۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے سمندری قانون کی خلاف ورزی ہے اور ایران کو اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

بحرینی وزیر کے مطابق یہ قرارداد کسی نئے تنازع کے بجائے ایران کے جارحانہ رویے کے تدارک کے لیے تھی۔ 

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کو دھمکانا کوئی ہنگامی واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے جس کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔

strait of hormuz
(فوٹو: انٹرنیٹ)

واضح رہے کہ ہرمز عالمی تجارت کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے جہاں سے دنیا کی 11 فیصد تجارت گزرتی ہے۔ 

اس راستے سے سمندری ذریعے سے منتقل ہونے والے تیل کا ایک چوتھائی سے زائد حصہ اور عالمی کھپت کا پانچواں حصہ یعنی 20 ملین بیرل یومیہ تیل گزرتا ہے۔

اس کے علاوہ دنیا بھر میں مائع قدرتی گیس کی تجارت کا پانچواں حصہ بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔ 

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں مال بردار جہاز دونوں اطراف پھنس چکے ہیں۔

تہران کا مؤقف ہے کہ وہ دشمن ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دے گا، تاہم دیگر ممالک کے جہازوں کو رابطہ کاری کے بعد گزرنے دیا جا رہا ہے۔ 

ایران نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے بعد اس راستے سے گزرنے پر ٹول ٹیکس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔