قطر نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث خطہ ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق دوحہ حکومت نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ دیر ہونے سے قبل اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے حل تلاش کرلیں۔
ترجمان وزارت خارجہ ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر 2023 سے خبردار کر رہا تھا کہ اگر کشیدگی کو نہ روکا گیا تو حالات بے قابو ہو جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ میں کسی کی جیت ممکن نہیں اور نقصان سب کا ہوگا۔
قطر نے ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی زیرِ قیادت ثالثی کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا، تاہم واضح کیا کہ وہ خود براہِ راست امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی نہیں کر رہا۔
قطر کی جانب سے ایران پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ خطے کے ممالک کو نشانہ بنانا بند کرے۔
ترجمان نے کہا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ اقدام خطے میں نئی مشکلات پیدا کرے گا۔
انہوں نے ایران کے سامنے مؤقف رکھا کہ دھمکیاں دینے سے بحران حل نہیں ہوگا بلکہ پیچیدگیاں مزید بڑھیں گی۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے قطر کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدرتی گزرگاہ ہے جس کا استعمال تمام ممالک کا حق ہے۔
ترجمان کے مطابق کسی ایک فریق کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی مرضی مسلط کرے۔ ہرمز کی بندش عالمی سپلائی چین، توانائی اور غذائی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
دریں اثنا قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جامع اور پائیدار سفارتی حل ہی بحران کا واحد راستہ ہے۔
اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو وہ ایران کے تمام شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیں گے۔
یہ مہلت آج منگل اور بدھ کی درمیانی شب ختم ہورہی ہے، جس کے بعد کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ جنگ بندی کی کوششیں ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔