اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ٹرمپ کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے قریب، ماہرین کیا منظرنامہ پیش کرتے ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی برادری کی نظریں آج منگل کی رات 8 بجے تک آبنائے ہرمز پر مرکوز ہیں، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن کا حتمی وقت ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق اس صورتحال پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر 2 منظرنامے سامنے آ سکتے ہیں۔

پہلا یہ کہ صدر ٹرمپ اپنی فتح کا تاثر برقرار رکھنے کے لیے ڈیڈ لائن میں چند دن یا ہفتوں کی توسیع کر دیں تاکہ جنگ کے شعلوں کو بھڑکنے سے روکا جا سکے۔

دوسرا منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ اپنے دھمکی آمیز لہجے پر 

عمل کرتے ہوئے ایران کے عسکری و شہری بنیادی ڈھانچے پر ٹارگٹڈ حملے کرے۔

ماہرین کا خدشہ ہے کہ اس صورت میں ایرانی تنصیبات تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہیں اور خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوگی۔

israel attack in tehran
(فوٹو: انٹرنیٹ)

فوجی امور کے ماہر میجر جنرل اسامہ محمود کبیر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا جوابی ردعمل فوری اور شدید ہو سکتا ہے، جس سے خطے کی اہم تنصیبات متاثر ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ دوسری جانب عرب ممالک اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

اُدھر سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر ہیثم عمران کا کہنا ہے کہ خطہ اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایران نے کشیدگی کم کرنے کے لیے غیر مشروط طور پر بیرون ملک منجمد تمام مالی اثاثوں کی فوری بحالی اور معاشی پابندیوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کی جانب سے ایک اور اہم شرط ایک بین الاقوامی سطح پر ضمانت یافتہ عدم جارحیت کا معاہدہ بھی ہے۔ 

tehran attacked 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

تہران چاہتا ہے کہ واشنگٹن تحریری طور پر اس بات کا پابند ہو کہ مستقبل میں ایرانی سرزمین یا خودمختار اداروں کو کسی بھی قسم کے حملے کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

موجودہ صورتحال میں فریقین کے مطالبات میں خلیج تاحال برقرار ہے۔ 

ٹرمپ جہاں سیکیورٹی معاملات پر فوری سمجھوتہ چاہتے ہیں، وہیں ایران اپنی تاریخی تنہائی ختم کرنے کے لیے تزویراتی فوائد کا خواہاں ہے۔ 

آنے والے چند گھنٹے خطے کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔