امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو آج رات ایک پوری تہذیب کا خاتمہ ہو جائے گا، جس کے بعد وہ کبھی دوبارہ نہیں ابھر سکے گی۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام میں کہا ہے کہ وہ ایسا نہیں چاہتے لیکن حالات جس نہج پر ہیں، اس کے پیش نظر یہ تباہی ناگزیر معلوم ہوتی ہے۔
انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے مزید واضح کیا کہ آج رات ہی سب کچھ واضح ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے منگل
کی نصف شب تک کی ڈیڈ لائن دی تھی۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ طے نہ پایا تو امریکی فوج ایران کے پلوں، بجلی گھروں اور دیگر اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دے گی۔
اُدھر ایرانی حکام نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف عارضی جنگ بندی کے بجائے مکمل جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔
تہران نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے اپنے فیصلے کو بھی برقرار رکھا ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی شدید خطرے میں ہے۔
امریکہ و اسرائیل 28 فروری سے ایران پر مسلسل فضائی حملے کر رہے ہیں اور آج منگل کے روز ایران نے تصدیق کی کہ اس کے اہم ترین آئل ایکسپورٹ ہب، جزیرہ خارک کو متعدد فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے توانائی کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ٹرین نیٹ ورک اور ریلوے اسٹیشنوں سے دُور رہیں، جس کے بعد حکام نے شہر سے تمام ٹرین سروسز کو تاحکم ثانی معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
دریں اثنا کاشان میں ریلوے پل پر ہونے والے ایک حملے میں 2 افراد کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ایرانی ہلال احمر نے جزیرہ خارک میں ریل لائن کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت پر ردعمل علاقائی حدود سے باہر ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ شاید آخری لمحات میں کوئی انقلابی تبدیلی آ جائے، تاہم زمینی حقائق انتہائی کشیدہ ہیں۔
ایران کی جانب سے اسرائیل کے اندر بیلسٹک میزائلوں کے حملے اور اس کے جواب میں امریکی و اسرائیلی فضائی کارروائیوں نے خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔