وزارت خارجہ نے اسرائیلی حکومت کے ایک وزیر کی جانب سے سخت فوجی پہرے میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں داخلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مزید پڑھیں
ریاض حکومت نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور اسلامی مقدسات کی توہین قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اشتعال انگیز عمل دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
مملکت نے واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں اور مقدس مقامات کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کا تسلسل قرار دیا ہے۔
مملکت نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور فلسطین میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری کردار ادا کرے۔
سعودی عرب کا مطالبہ ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی تاریخی و قانونی حیثیت کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھنا عالمی ذمہ داری ہے۔
مملکت نے مطالبہ کیا کہ بار بار ہونے والے ایسے اشتعال انگیز اقدامات اور اسرائیلی جارحیت کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیلی حکومت کے وزیر اور یہودی آبادکار درجنوں مرتبہ اسرائیلی فوج کے پہرے میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرتے رہے ہیں۔
یہود شرپسندوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر تلمودی رسومات کی آڑ میں اشتعال انگیز اقدامات سے فلسطینیوں سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنا معمول بن چکا ہے۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج سیکیورٹی سمیت دیگر حربے استعمال کرکے آئے دن قبلہ اول کے دروازے مسلمانوں کے لیے بند کرتے ہوئے وہاں عبادات کی ادائیگی پر جبراً پابندی لگا دیتی ہے۔