عالمی یوم صحت کے موقع پر اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے صحت کی نظام میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
صحت معیار کے شعبے میں اہم کامیابی اوسط عمر میں اضافہ ہے، جو 2016 میں 74 سال تھی اور 2025 کے اختتام تک 79.9 سال تک پہنچ گئی۔
ملک 2030 کے وژن کے ہدف یعنی 80 سال کی اوسط عمر کے قریب پہنچ گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ نمایاں ترقی تیز رفتار کلینیکل ٹرائلز (تجرباتِ طبی) کی توسیع کی بدولت ممکن ہوئی، جن میں 2023 سے 2025 کے دوران 51.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ان ٹرائلز کے آغاز میں اوسط وقت 48 فیصد کم ہوا، جس سے جدید علاجی حل تک تیز رسائی اور تحقیقی نتائج سے زیادہ فائدہ حاصل ہوا۔
مزید پڑھیں
تحقیقی ماحول کے حوالے سے، ٹرائلز کی اسپانسر کرنے والی کمپنیوں کی تعداد میں 36 فیصد اضافہ ہوا اور ٹرائلز کے لیے 13 مقامات دستیاب ہوئے، جو سعودی عرب کی معیار کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ملکی و بین الاقوامی سائنسی شراکت داری کو مضبوط کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پروگرام کے سی ای او، ڈاکٹر خالد الشیبانی نے بتایا کہ کلینیکل ٹرائلز میں
تیز رفتار ترقی ملک کو صحت کے شعبے میں ایک علاقائی مرکزِ جدت (Innovation Hub) بنانے کی عکاسی کرتی ہے اور سائنس اور تحقیق میں سرمایہ کاری انسانی صحت میں واضح نتائج پیدا کر رہی ہے، جو معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور سعودی وژن 2030 کے صحت کے شعبے کے اہداف کے مطابق ہے۔
واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت ہر سال 7 اپریل کو عالمی یوم صحت مناتا ہے تاکہ اہم صحت کے مسائل پر توجہ دی جا سکے۔
اس سال کا موضوع کوششوں کے انضمام اور سائنس و جدت کو استعمال کرتے ہوئے سب کے لیے پائیدار صحت مند مستقبل کی تعمیر ہے۔