اسلام آباد میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ’مثبت اور تعمیری‘ کوششیں ’حساس اور فیصلہ کن مرحلے‘ میں داخل ہو چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے سامنے دو مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے تاہم تہران نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا بلکہ مستقل اور ضمانت شدہ امن کا خواہاں ہے۔
مزید پڑھیں
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اس بات پر زور دیا کہ 45 روزہ عارضی جنگ بندی دراصل امریکہ کو دوبارہ عسکری تیاری کا موقع دے گی، جسے ایران کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی عارضی جنگ بندی کے بدلے بحال نہیں کی جائے گی۔
ایران اس اہم گزرگاہ میں جنگ کے بعد ’نئے انتظام‘ پر زور دے رہا ہے
جس میں سلطنت عمان کے ساتھ مشترکہ انتظام کا عندیہ بھی شامل ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تمام ریاستوں کو ’سیکیورٹی فیس‘ ادا کرنا ہوگی اور کسی بھی ملک کو استثنا حاصل نہیں ہوگا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے آج منگل تک کی مہلت دے رکھی ہے جبکہ اس سے قبل توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی تھی تاہم بعد ازاں انہوں نے معاہدے اور آبنائے ہرمز کے کھلنے کے امکانات کا بھی عندیہ دیا۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز زیر غور ہے لیکن ٹرمپ نے تاحال اس کی منظوری نہیں دی۔
ادھر ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمى نے کہا ہے کہ مسلح افواج جنگ جاری رکھیں گی جب تک سیاسی قیادت اسے مناسب سمجھے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے پاکستانی تجویز—جس میں 10 نکات شامل ہیں—کا باضابطہ جواب بھی دے دیا ہے، جس میں خطے میں کشیدگی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ، پابندیوں کا خاتمہ اور تعمیر نو جیسے نکات شامل ہیں۔