پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ایران امریکہ جنگ بندی کے 2 مرحلہ فارمولے پر پوری د نیا گہری نظریں رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق جنگ بندی کے لیے پاکستان کی جانب سے دی گئی تجاویز پر تہران نے اپنے حتمی مطالبات اور سرخ لکیروں کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسے محض عارضی جنگ بندی قبول نہیں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ اسماعیل بقائی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ 45 روزہ عارضی وقفہ صرف امریکی فوج کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تہران مستقل جنگ بندی اور آئندہ جنگ نہ ہونے
کی بین الاقوامی ضمانتوں کا خواہاں ہے۔
آبنائے ہرمز: تہران کی نئی حکمت عملی
فریقین کے درمیان موجودہ صورت حال میں آبنائے ہرمز کشیدگی کا سب سے اہم مرکز ہے۔
تہران نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے بدلے اس اہم گزرگاہ کو بلا معاوضہ نہیں کھولا جائے گا، بلکہ تمام ممالک کو یہاں سے گزرنے کے لیے ’سیکیورٹی فیس‘ ادا کرنا ہوگی، جس سے ایران جنگی نقصانات کا ازالہ کرے گا۔
مستقبل کا انتظامی ڈھانچہ
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران مستقبل میں آبنائے ہرمز کا انتظام سلطنت عمان کے ساتھ مشترکہ طور پر چلانے کا عندیہ دے رہا ہے۔
تہران اس حوالے سے سمندری تحفظ کے نئے پروٹوکول اور ضوابط پر عمان کے ساتھ مشاورت کر چکا ہے تاکہ محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
جوہری پروگرام اور میزائل ڈیفنس
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے دعووں پر تبصرہ کیا ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے مضبوط ضمانتوں پر سمجھوتا نہیں کرے گا۔
یہ اشارہ ممکنہ طور پر ایران کے اسٹریٹیجک میزائل پروگرام کی طرف ہے، جسے امریکہ تباہ کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔
پاکستان کی تجویز اور 10 نکاتی فارمولا
تہران نے پاکستانی ثالثی میں پیش کردہ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
تجاویز کے بعد ایران کا جوابی فارمولا 10 نکات پر مشتمل ہے، جس میں خطے میں تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کے لیے محفوظ گزرگاہ کا پروٹوکول، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور جنگ کے بعد دوبارہ تعمیر و ترقی کے اہم مطالبات شامل ہیں۔
جنگ یا سفارت کاری
امریکی صدر نے ایران کو منگل کی شام تک معاہدے تک پہنچنے کی ڈیڈ لائن دی ہے، بصورت دیگر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی اپنے عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سیاسی قیادت کی ہدایت کے مطابق جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گیند اب امریکہ اور ایران کے کورٹ میں ہے۔
ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ 45 روزہ جنگ بندی کے آپشن پر غور کر رہی ہے، وہیں تہران کا مطالبہ ہے کہ امن صرف مستقل بنیادوں اور سیکیورٹی ضمانتوں کے ساتھ ہی ممکن ہے، ورنہ خطہ مزید بحران کا شکار ہوگا۔