تہران نے پاکستان کے توسط سے امریکا کو اپنا باضابطہ جواب بھجوا دیا ہے جس میں عارضی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بجائے جنگ کے مکمل اور مستقل خاتمے کے خواہاں ہیں۔
ایرانی حکومت کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی جواب میں خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے پروٹوکول، پابندیوں کے مکمل خاتمے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو
جیسے اہم مطالبات شامل کیے گئے ہیں جن پر تہران نے اصرار کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے ایرانی جواب کو انتہائی سخت قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس پیش رفت سے سفارتی حل کی راہ ہموار ہونے کے امکانات کم ہیں۔
یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس تاحال ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنے آپشنز کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
قبل ازیں پاکستان نے امریکا اور ایران کو دو مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کا منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت فوری جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور 15 سے 20 دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کی تجویز دی گئی تھی۔
پاکستانی منصوبے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری، پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل تھی۔
اس کے بدلے میں آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کی بات کی گئی تھی، جسے پاکستان کے ذریعے ایک مفاہمت کی یادداشت بنانا تھا۔
پاکستانی فیلڈ مارشل، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان رابطوں کا مقصد فریقین کو ایک میز پر لانے کی کوشش کرنا تھا۔
اُدھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ تہران اپنے مفادات کے تحت مطالبات طے کر چکا ہے اور ان کی سرخ لکیریں واضح ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تہران کسی بھی دباؤ کے بغیر اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز دھمکی دی تھی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے گا۔
انہوں نے ایران کو منگل کی شام تک کی مہلت دیتے ہوئے ایران پر جہنم برسانے کی دھمکی دی تھی۔