اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

دوبارہ گرم کیا ہوا کھانا صحت کے لیے کتنا خطرناک ہے؟ جانیے!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ماہرینِ غذائیت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ روزمرہ استعمال کی کئی عام غذائیں دوبارہ گرم کرنے پر ’خاموش خطرہ‘ بن سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں

کھانے کو دوبارہ گرم کرنا وقت بچانے کا ایک عام ذریعہ ہے، لیکن یہ صحت کے لیے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دوبارہ گرم کرنے سے بہت سی اشیا کی غذائیت متاثر ہوتی ہے اور ان میں ایسے مرکبات پیدا ہو جاتے ہیں جو نظامِ ہاضمہ کے لیے مضر ہیں۔

’ٹائمز ناؤ‘  کی رپورٹ کے مطابق بار بار گرم کرنے سے ان غذاؤں کی 

کیمیائی ساخت تبدیل ہو جاتی ہے یا ان میں نقصان دہ بیکٹیریا نشوونما پاتے ہیں۔

یہ غذائیں دوبارہ گرم نہ کریں

meal hot in microwave 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

چاول میں ’بیسیلس سیریس‘ نامی بیکٹیریا ہوتے ہیں جن کے زہریلے مادے گرم کرنے سے بھی ختم نہیں ہوتے اور یہ فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتے ہیں۔

اسی طرح پالک میں موجود نائٹریٹس دوبارہ گرم کرنے پر خون میں آکسیجن کی فراہمی کو متاثر کرنے والے مرکبات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

مرغی کے گوشت کو بھی بار بار گرم کرنے سے اس کی پروٹین کی ساخت بدل جاتی ہے، جو ہاضمے کی خرابی کا باعث بنتی ہے۔ 

ان کے علاوہ آلو کو اگر کمرے کے درجہ حرارت پر غلط طریقے سے ذخیرہ کیا جائے تو دوبارہ گرم کرنے پر ان میں ’کلوسٹریڈیم بوٹولینم‘ جیسے خطرناک بیکٹیریا پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مشروم اور انڈوں کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے، کیونکہ ان میں موجود پروٹین اور نائٹروجن کے مرکبات حرارت کے عمل سے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ 

اِن کے علاوہ چائے، دودھ، دالیں اور تلی ہوئی اشیا کی غذائیت بھی دوبارہ گرم کرنے سے ختم ہو جاتی ہے۔

صحت پر ممکنہ اثرات

meal hot in microwave 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

غذائی ماہرین کے مطابق ایسی غذاؤں کو غیر مناسب طریقے سے گرم کرنے سے کئی طبی مسائل جنم لیتے ہیں۔

اِن میں نقصان دہ بیکٹیریا کی افزائش، اہم غذائی اجزا کا ضیاع اور ایسے زہریلے مادوں یا ’فری ریڈیکلز‘ کا بننا شامل ہے جو انسانی خلیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

محفوظ رہنے کے لیے تجاویز

ماہرین کا مشورہ ہے کہ تازہ پکا ہوا کھانا کھانا ہی سب سے بہتر اور محفوظ انتخاب ہے۔

اگر ضرورت پیش آئے تو کھانا صرف ایک بار ہی گرم کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں کھانا پکانے کے 2 گھنٹے کے اندر اسے فریج میں رکھنا اور صرف درکار مقدار ہی گرم کرنا ضروری ہے۔

کھانے کو اچھی طرح اور یکساں طور پر گرم کرنا بھی حفظانِ صحت کے اصولوں میں شامل ہے۔

ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے سے فوڈ پوائزننگ کے خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے اور صحت کو لاحق ممکنہ مضر اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔