اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

شدید معاشی بحران کے شکار ایران کی افغانوں سے مالی مدد کی درخواست

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

شدید معاشی بحران کے دوران ایران کی جانب سے افغان شہریوں سے مالی امداد طلب کرنے کا غیر معمولی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق کابل میں موجود ایرانی سفارت خانے نے ایک بیان میں افغان عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایرانی ہلال احمر کے بینک کھاتوں میں رقوم جمع کروا کر تہران کی مدد کریں۔

سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ کئی افغان شہریوں نے ایران کو مالی تعاون فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

واضح رہے کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران شدید معاشی دباؤ اور اندرونی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

اس سے قبل ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے تہران کی سڑکوں پر فاطمیون ملیشیا کے ارکان کی موجودگی کی ویڈیوز جاری کی تھیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اب عسکری حمایت کے ساتھ ساتھ مالیاتی سطح پر بھی افغان وسائل اور حمایت کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران کی معاشی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ملک میں کئی صنعتی شعبے بند ہو چکے ہیں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔ 

صرف ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک اداروں کے ملازمین ہی کو بروقت تنخواہیں مل رہی ہیں، جس سے معاشی عدم توازن بڑھ گیا ہے۔

ایک حالیہ اسرائیلی رپورٹ میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کی خام تیل کی برآمدات بھی بند ہونے کے قریب ہیں۔ 

یاد رہے کہ تیل ایران کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس کی بندش سے ملک میں مکمل معاشی انحطاط کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جسے سنبھالنا تہران کے لیے مشکل ہوگا۔

afghan deportation
افغان باشندوں کی ملک بدری (فوٹو: انٹرنیٹ)

تازہ ترین صورت حال کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی واضح دکھائی دیتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ فوجی کارروائیوں کے بجائے اب معاشی ناکہ بندی کو ایران کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ تہران کو مزید کمزور کیا جا سکے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ایران نے گزشتہ سال جون میں 12 روزہ جنگ کے بعد 10 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا تھا۔ 

افغانوں کی ملک بدری کو بین الاقوامی تنظیموں نے تاریخ کی سب سے بڑی جبری بے دخلی قرار دیا تھا، جس پر ایران کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

یاد رہے کہ ایران پر یہ الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ اس نے افغان پناہ گزینوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ 

تہران نے ہزاروں افغانوں کو بھرتی کر کے فاطمیون ملیشیا کا حصہ بنایا اور انہیں شام سمیت مختلف علاقائی تنازعات میں لڑنے کے لیے بھیجا، جہاں ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔