شدید معاشی بحران کے دوران ایران کی جانب سے افغان شہریوں سے مالی امداد طلب کرنے کا غیر معمولی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق کابل میں موجود ایرانی سفارت خانے نے ایک بیان میں افغان عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایرانی ہلال احمر کے بینک کھاتوں میں رقوم جمع کروا کر تہران کی مدد کریں۔
سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ کئی افغان شہریوں نے ایران کو مالی تعاون فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
واضح رہے کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران شدید معاشی دباؤ اور اندرونی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
اس سے قبل ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے تہران کی سڑکوں پر فاطمیون ملیشیا کے ارکان کی موجودگی کی ویڈیوز جاری کی تھیں۔
با توجه به درخواست های اتباع محترم افغانستان برای همراهی و اعلام حمایت مالی در جریان تجاوز نظامی آمریکایی و صهیونی به جمهوری اسلامی ایران، بدین وسیله سفارت جمهوری اسلامی ایران در کابل آمادگی دریافت کمک های مردمی را از طریق روش های زیر اعلام می دارد. pic.twitter.com/5QHNxC343v
— Embassy of the I.R. Iran in Kabul, Afghanistan (@IRANinKabul) April 6, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اب عسکری حمایت کے ساتھ ساتھ مالیاتی سطح پر بھی افغان وسائل اور حمایت کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کی معاشی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ملک میں کئی صنعتی شعبے بند ہو چکے ہیں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔
صرف ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک اداروں کے ملازمین ہی کو بروقت تنخواہیں مل رہی ہیں، جس سے معاشی عدم توازن بڑھ گیا ہے۔
ایک حالیہ اسرائیلی رپورٹ میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کی خام تیل کی برآمدات بھی بند ہونے کے قریب ہیں۔
یاد رہے کہ تیل ایران کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس کی بندش سے ملک میں مکمل معاشی انحطاط کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جسے سنبھالنا تہران کے لیے مشکل ہوگا۔
تازہ ترین صورت حال کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی واضح دکھائی دیتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ فوجی کارروائیوں کے بجائے اب معاشی ناکہ بندی کو ایران کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ تہران کو مزید کمزور کیا جا سکے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ایران نے گزشتہ سال جون میں 12 روزہ جنگ کے بعد 10 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا تھا۔
افغانوں کی ملک بدری کو بین الاقوامی تنظیموں نے تاریخ کی سب سے بڑی جبری بے دخلی قرار دیا تھا، جس پر ایران کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔
یاد رہے کہ ایران پر یہ الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ اس نے افغان پناہ گزینوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔
تہران نے ہزاروں افغانوں کو بھرتی کر کے فاطمیون ملیشیا کا حصہ بنایا اور انہیں شام سمیت مختلف علاقائی تنازعات میں لڑنے کے لیے بھیجا، جہاں ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔