ایک باخبر ذریعے نے آج پیر کو رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کو جنگ بندی کے لیے فریم ورک موصول ہوا ہے۔
اگر دونوں طرف سے حالات سازگار رہے تو ممکنہ طور پر یہ آج نافذ العمل ہو جائے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق پاکستان نے جنگ بندی کے لیے فریم ورک تیار کیا ہے جو ایران اور امریکہ کو کل رات حوالے کیا گیا تھا اور یہ دو مرحلوں پر مبنی ہے:
ابتدا فوری جنگ بندی سے ہوگی جس کے بعد ایک جامع معاہدہ طے کیا جائے گا۔
ذرائع نے کہا کہ حتمی معاہدے کی تجویز میں ایران کا جوہری ہتھیاروں
سے دستبردار ہونا، پابندیوں کا خاتمہ اور اپنے اثاثے بازیاب کرانا شامل ہے اور منصوبہ فوری جنگ بندی اور ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی راہ ہموار کرے گا جس کے بعد 15 سے 20 دن کے اندر حتمی معاہدہ طے پایا جائے گا۔
ذرائع نے کہا ہے کہ تمام عناصر پر آج ہی اتفاق ہونا چاہیے، ابتدائی سمجھوتہ ایک مفاہمتی نوٹ کی شکل میں تیار کیا جائے گا جو بعد میں پاکستان کے ذریعے حتمی شکل اختیار کرے گا، کیونکہ پاکستان ہی بات چیت کا واحد ذریعہ ہے۔
اسی حوالے سے، رائٹرز نے ایک اعلی ایرانی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ تہران نے پاکستان کی تجویز موصول کرلی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے لیکن ایران کسی بھی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی اہلکار نے مزید کہا کہ ایران صرف عارضی جنگ بندی کے بدلے ہرمز دوبارہ نہیں کھولے گا، اور ایران کے نزدیک امریکہ مستقل جنگ بندی کے لیے تیار نہیں۔
امریکی ویب سائٹ اکسیئس نے آج پیر کو ذرائع کے حوالے سے کہا کہ امریکہ اور ایران، علاقائی ثالثوں کے ساتھ مل کر، ممکنہ 45 دن کی جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کر رہے ہیں، جو مستقل جنگ بندی کی طرف راہ ہموار کر سکتی ہے۔
امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں جزوی معاہدے کے امکانات محدود ہیں لیکن یہ آخری موقع ہے کہ وسیع پیمانے پر فوجی کشیدگی، جس میں ایران کی شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے یا خلیجی ممالک میں توانائی اور پانی کے منصوبوں پر ایرانی حملے شامل ہو سکتے ہیں، سے بچا جا سکے۔