ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے زیرِ غور تجویز پر بات چیت کے بعد توجہ تہران کی جانب مرکوز ہو گئی ہے، جہاں 45 دن کی عارضی جنگ بندی قبول کئے جانے کا امکان زیرِ بحث ہے۔
امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔
ذرائع کے مطابق ثالثی کی کوشش کرنے والے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق اعتماد سازی اقدامات پر کام کر رہے ہیں جیسا کہ پیر کے روز ’اکسیوس‘ نے رپورٹ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ذرائع نے مزید بتایا کہ تہران 45 دن کی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز اور یورینیم کے معاملات پر کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں حالانکہ ثالثی نے خبردار کیا ہے کہ وقت نہیں بچا۔
ایرانی موقف کسی بھی عارضی جنگ بندی کے حوالے سے سخت رہا ہے اور وہ مستقل جنگ بندی کے ساتھ ضمانت کا مطالبہ کرتا رہا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہو۔
دو روز قبل ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ ہمارے لیے اہم بات اس غیر قانونی جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ ہے جو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔
اسی طرح ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ آپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکہ کو ہر خاندان کے لیے حقیقی جہنم میں دھکیل رہے ہیں، اور ہمارا پورا خطہ جل اٹھے گا کیونکہ آپ نیتن یاہو کے احکامات پر عمل کرنے پر مصر ہیں۔
یہ بیانات، جو امریکی تجویز کے حوالے سے منفی رویے کی عکاسی کرتے ہیں، اس وقت سامنے آئے جب ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر منگل کی شام تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے پلوں اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا اور ’جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے‘۔
دوسری جانب ایک سینئر اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے تصدیق کی کہ اسرائیل، جس نے گزشتہ ہفتے ایک بڑی پیٹروکیمیکل تنصیب پر حملہ کیا تھا، آئندہ چند دنوں میں ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے اور اس کے لیے واشنگٹن کی منظوری اور گرین سگنل کا انتظار ہے، جس سے تہران پر دباؤ مزید بڑھ رہا ہے، جیسا کہ خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
یہ جنگ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت ایران اور لبنان میں ہے۔
پاکستان، مصر اور ترکی کی قیادت میں جاری سفارتی کوششیں تاحال کوئی نمایاں نتیجہ نہیں دے سکیں۔
ادھر آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے دنیا بھر میں صارفین اور کاروباری اداروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔