اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

جنگ کے اثرات: مختلف ممالک میں کفایت شعاری کے اقدامات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فوٹو: الجزیرہ

جنگ کے ما بعد اثرات ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک میں نظر آنا شروع ہوگئے ہیں جس سے نہ صرف ترقی پذیر ممالک پریشان ہیں بلکہ چین، جاپان اور کوریا جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔

حکومتِ سینگال نے تمام غیر ضروری بیرونی دوروں کو وزراء اور اعلیٰ حکام کے لیے معطل کر دیا، اور خبردار کیا کہ مستقبل میں ’بہت مشکل‘ حالات آ سکتے ہیں، جب کہ امریکی، اسرائیلی جنگ ایران کے ساتھ 28 فروری سے جاری ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق اس جنگ اور ایران کی جانب سے اہم ہرمز کے راستے کو بند کرنے کے نتیجے میں عالمی توانائی مارکیٹ میں اضطراب پیدا ہوا، جس نے برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھا دی اور دنیا بھر کی حکومتوں کو منفی اثرات کو کم کرنے کے اقدامات کرنے پر مجبور کیا۔

جمعہ کی شام ساحلی شہر مبور میں نوجوانوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینگال کے وزیراعظم عثمان سونکو نے کہا کہ تیل کی قیمت

 تقریباً 115 ڈالر فی بیرل ہے جو کہ سینگال کی بجٹ میں شامل 62 ڈالر کی قیمت کا تقریباً دوگنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری کابینہ کا کوئی بھی وزیر ملک نہیں چھوڑے گا سوائے اس کے کہ یہ کسی بنیادی کام سے متعلق ہو جو ہم اس وقت کر رہے ہیں، اور اعلان کیا کہ انہوں نے نیجر، اسپین اور فرانس کے لیے اپنے طے شدہ دورے منسوخ کر دیے ہیں۔

454564
فوٹو: الجزیرہ

اقدامات برائے بچتِ توانائی

دیگر حکومتوں نے بھی بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سبسڈی فراہم کرنا اور گھر سے کام کرنے کے انتظامات شامل ہیں۔ 

  • اردن: وزیرِ اعظم جعفر حسان نے حکومتی اداروں میں اخراجات کو کنٹرول کرنے اور استعمال کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے، جن میں سرکاری گاڑیوں کا صرف رسمی کام کے لیے استعمال، بیرون ملک سرکاری وفود کے سفر پر دو ماہ کی پابندی (صرف ضروری اور پیشگی اجازت کے ساتھ) شامل ہے۔

سرکاری ضیافتوں کی میزبانی معطل اور اخراجات محدود کرنے کے اقدامات کیے گئے، اور وزارات میں ائیر کنڈیشنر اور دیگر حرارتی آلات کے استعمال پر پابندی لگائی گئی۔

  • انڈونیشیا: حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے جمعہ کے دن گھر سے کام کرنے کی پالیسی نافذ کی، تاکہ قومی سطح پر توانائی کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔ 

پرائیویٹ سیکٹر کو بھی یہی مشورہ دیا گیا، جس سے 6.2 ٹریلین روپیہ (تقریباً 365 ملین ڈالر) بچائے جا سکتے ہیں۔

4545454
فوٹو:الجزیرہ
  • فلپائن: توانائی کے شعبے میں قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان اور ایک سال تک جاری رہنے والی بچت کی پالیسیاں شروع کیں۔
  • جاپان: وزیرِ اعظم سانائی تاکائچی نے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر دوبارہ استعمال کرنے کا اعلان کیا تاکہ ممکنہ قلت کو کنٹرول کیا جا سکے۔
  • پاکستان: ایندھن کے استعمال میں 50% کمی، اخراجات میں کمی، گھر سے کام کرنے اور ہفتے کے کام کے دن کم کرنے جیسے اقدامات کیے گئے۔
  • بھارت اور بنگلادیش: بھارت نے گیس کی کمی کے باعث کوئلے پر انحصار بڑھایا، جبکہ بنگلادیش نے ایندھن کی فروخت پر پابندی لگائی اور یونیورسٹیاں عارضی طور پر بند کیں۔
  • مصر: وزیرِ اعظم مصطفی مدبولی نے اعلان کیا کہ حکومت بڑے منصوبوں کی رفتار کم کرے گی جو زیادہ ایندھن استعمال کرتے ہیں، اور تمام سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی مختص رقم 30% کم کی جائے گی۔ 

مزید یہ کہ زیادہ تر دنوں میں رات 9 بجے کے بعد دکانیں، ریستوران اور شاپنگ سینٹر بند کیے جائیں گے۔ 

اسے ملتے جلتے اقدامات سری لنکا نے بھی کئے ہیں۔

ہرمز کی بندش

2 مارچ کو ایران نے ہرمز کے راستے میں کشتیوں اور ٹینکروں کی نقل و حرکت محدود کر دی جو ’دشمنوں‘ سے منسلک ہیں۔
یہ راستہ روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل منتقل کرتا ہے، جس کے بند ہونے سے شپنگ اور انشورنس کی لاگت میں اضافہ ہوا، تیل کی قیمتیں بڑھیں اور عالمی معیشت کے لیے تشویش پیدا ہوئی۔