سعودی عرب نے تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنا پہلا عربی سائنسی سیٹلائٹ ’شمس‘ کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا ہے۔
یہ سیٹلائٹ سعودی خلائی ایجنسی کی نگرانی میں آرٹميس 2 کے تحت SLS لانچ سسٹم کے ذریعے خلا میں پہنچا اور اس سے کامیاب رابطہ قائم کر لیا گیا۔
A historic milestone reflecting Saudi Arabia’s ambition toward advanced scientific and technological horizons, reinforcing its role as an active partner in the future of space exploration, while advancing national capabilities, fostering innovation, and building a sustainable… pic.twitter.com/YiZtFPsd2b
— برنامج تطوير الصناعة الوطنية والخدمات اللوجستية (@NIDLP_2030) April 4, 2026
العربیہ کے مطابق سعودی عرب اس طرح آرٹمیس پروگرام میں حصہ لینے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔
مزید پڑھیں
سیٹلائٹ ’شمس‘ کا مقصد خلا کے موسم کا مطالعہ، شمسی سرگرمی اور زمین پر اس کے تابکاری اثرات کا جائزہ لینا ہے۔ یہ 4 سائنسی محوروں پر کام کرے گا:
خلا میں تابکاری، شمسی ایکس ریز، زمین کا مقناطیسی میدان اور اعلی توانائی کے شمسی ذرات۔
سیٹلائٹ HEO مدار میں منتقل ہوگا، جو زمین سے تقریباً 500 کلومیٹر سے 70,000 کلومیٹر
تک فاصلے پر ہوگا تاکہ شمسی اور تابکاری اثرات کی وسیع پیمانے پر نگرانی ممکن ہو سکے اور جدید سائنسی مطالعہ فراہم کیا جا سکے۔
یہ کامیابی کئی حوالوں سے منفرد ہے:
- پہلا عربی مشن جو آرٹمیس پروگرام میں خلا میں بھیجا گیا۔
- سعودی عرب کا پہلا قومی مشن جو خصوصی طور پر خلا کے موسم کی نگرانی کے لیے تیار کیا گیا۔
- مکمل طور پر سعودی قومی صلاحیتوں کے ذریعے تیار، جسے سعودی وژن 2030 کے صنعتی اور لاجسٹک ترقیاتی پروگراموں کی مدد حاصل ہے۔
A historic milestone reflecting Saudi Arabia’s ambition toward advanced scientific and technological horizons, reinforcing its role as an active partner in the future of space exploration, while advancing national capabilities, fostering innovation, and building a sustainable… pic.twitter.com/YiZtFPsd2b
— برنامج تطوير الصناعة الوطنية والخدمات اللوجستية (@NIDLP_2030) April 4, 2026
واضح رہے کہ آرٹمیس 2 مشن میں 4 خلاباز شامل ہیں جو ’اوریون‘ اسپیس کرافٹ میں چاند کے گرد اولین انسانی مدار کی پرواز کریں گے جبکہ ’شمس‘ سائنسی معاونت کے طور پر سفر کر رہا ہے۔
اس مشن کے ذریعے سعودی عرب نہ صرف خلا میں سائنسی مطالعے کو فروغ دے رہا ہے بلکہ مواصلات، ہوا بازی اور نیوی گیشن جیسے اہم شعبوں کے لیے معلوماتی اور حفاظتی بنیادیں بھی مضبوط کر رہا ہے۔