ایرانی شہر بوشہر میں واقع جوہری بجلی گھر کے قریب ہونے والے حالیہ فضائی حملے نے خطے میں جوہری تباہی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
مزید پڑھیں
روسی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ تنصیب اب ایک سنگین اور تباہ کن خطرے کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر روس نے ہفتے کے روز بوشہر پلانٹ سے اپنے 198 ملازمین کا انخلا شروع کر دیا ہے۔
روسی جوہری ایجنسی روساتوم کے سربراہ الیکسی لیخاتشیو کے مطابق عملے کے لیے بسیں حملے کے 20 منٹ بعد روانہ کر دی گئی تھیں۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ انخلا پہلے سے طے شدہ تھا، تاہم تازہ ترین حملے نے حالات کو بدترین بنا دیا ہے۔
یہ عملہ بذریعہ سڑک آرمینیا کی سرحد کی جانب سفر کر رہا ہے اور توقع ہے کہ وہ 2 سے 3 دنوں میں اپنے وطن پہنچ جائیں گے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے دوران ایک شیل کا ٹکڑا لگنے سے پلانٹ کی سیکیورٹی پر مامور ایک ایرانی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔
دھماکے کی لہروں اور شعاعوں سے پلانٹ کی ایک عمارت کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے، جس سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر بوشہر پلانٹ کے گردونواح میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو تابکاری کے اخراج کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ تابکاری نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین ماحولیاتی اور انسانی بحران کا باعث بن سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائیل گروسی نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جوہری حادثے سے بچنے کے لیے عسکری کارروائیوں میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے بڑے سانحے کو روکا جا سکے۔
ایجنسی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فی الحال پلانٹ کے اِرد گرد تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔
جاری کشیدگی کے دوران بوشہر جوہری تنصیب کو نشانہ بنائے جانے کا یہ چوتھا واقعہ ہے، جس نے عالمی برادری میں تشویش پیدا کردی ہے۔
واضح رہے کہ تہران سے تقریباً 760 کلومیٹر جنوب میں واقع یہ پلانٹ ایران کا واحد جوہری بجلی گھر ہے، جہاں روسی کمپنی روساتوم ایک دوسرا کمپلیکس بھی تعمیر کر رہی ہے۔
یہ جوہری پلانٹ 2011 سے فعال ہے اور اسے ایران کے جوہری پروگرام میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔