اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ہرمز کا بحران: جنگ کا اقتصادی بوجھ ایشیا پر پڑ گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
چین، جاپان اور سنگاپور بحران کو برداشت کر سکتے ہیں، دیگر ممالک زیادہ خطرے میں ہیں (فوٹو: الشرق بلومبرگ)

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے دنیا کو الرٹ پر رکھ دیا ہے لیکن اقتصادی اثرات خاص طور پر ایشیا کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں، کیونکہ یہ ممالک ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل پر غیر معمولی حد تک منحصر ہیں۔

سنگاپور کی وزیر خارجہ فیویان بالاکریشنان نے امریکہ کو ’نگرانی کرنے والی طاقت‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ کچھ لوگ اسے ’عدم استحکام پیدا کرنے والی طاقت‘ بھی سمجھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

الشرق بلومبرگ کے مطابق انہوں نے عالمی نظام کے زوال کی نشاندہی کی جو طویل عرصے تک امن اور خوشحالی فراہم کرتا رہا۔ 

بالاکریشنان کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے ایشیا کو 90 فیصد تیل اور 83 فیصد مائع قدرتی گیس موصول ہوتی ہے، لہٰذا اس کا بند ہونا براہِ راست ایشیائی بحران بن جاتا ہے۔

 

چین، جاپان اور سنگاپور جیسے امیر ممالک قلیل مدت میں اس صدمے کو

 برداشت کر سکتے ہیں جبکہ جنوب مشرقی ایشیا کے بیشتر ممالک زیادہ خطرے کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے پاس صرف 20 سے 50 دن کے لیے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

65454564
فوٹو: رائٹرز

حکومتیں مجبور ہو کر ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں، جیسے توانائی کے شعبے میں قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان، عوامی اداروں کو جلد بند کرنا اور شہریوں کو ایندھن کی بچت کے لیے گھر پر رہ کر کرکٹ میچ ٹی وی پر دیکھنے کی ترغیب دینا۔ 

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے فلپائن، تھائی لینڈ اور بھارت میں سماجی احتجاجات کو جنم دیا ہے۔

اسی سے ملتی جلتی صورتحال پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی دیکھنے میں آرہی ہے۔

اس تنازع نے خطے کی جغرافیائی سیاست کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ 

مثال کے طور پر فلپائن کے صدر نے متنازعہ سمندری علاقوں میں مشترکہ تیل و گیس کے منصوبوں پر غور کیا جبکہ چین نے عالمی ثالث کے طور پر اپنا کردار بڑھایا اور علاقائی استحکام اور ترقی میں مدد کی پیشکش کی۔

654655465
فوٹو: انڈیپینڈٹ

ایشیا کے لیے عملی حل یہ ہے کہ وہ توانائی کی ایسی سپلائی پر انحصار کم کرے جو کسی بحران سے متاثر ہو سکتی ہے، ذرائع متنوع کرے، اسٹریٹجک ذخائر بڑھائے اور علاقائی تعاون کو فروغ دے، جیسا کہ آسٹریلیا اور سنگاپور کے حالیہ توانائی معاہدے میں دیکھا گیا۔

ہرمز کا بحران ایک بنیادی کمزوری ظاہر کرتا ہے، کیونکہ ایشیا کو ایسی جنگ کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے جس پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں اور مستقبل میں بڑے اثرات سے بچنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔